Posts

Showing posts from December, 2025

معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ

Image
    کالم : عتیق چوہدری  حکومت کی جانب سے معاشی بحران سے نکلنے کے دعوے اپنی جگہ لیکن کلیدی اقتصادی اشاریے زمینی حقائق کی سنگینی کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ ملک کی معیشت کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کا تناسب، برآمدات کی کارکردگی، بیروزگاری کی شرح اور قوت خرید جیسے اشاریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔کسی بھی معیشت کی ترقی کا انحصار اس کی سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کے تناسب پر ہوتا ہے جو پاکستان میں شدید تشویشناک ہے۔ یہ تناسب خطے کے دیگر ممالک جہاں یہ 25 سے 30 فیصد کے قریب ہے کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024ء میں انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13.1 فیصد کی کم ترین سطح تک گر گئی جسے نظر ثانی کے بعد 13.8 فیصد کیا گیا۔ مالی سال 2025ء میں معمولی اضافے کے باوجود یہ 14.1 فیصد تک پہنچی مگر یہ 2023ء کی سرمایہ کاری پالیسی میں طے شدہ 20 فیصد کے ہدف سے اب بھی بہت دُور ہے۔ اس مایوس کن منظر نامے کو مزید تقویت اس امر سے ملتی ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران براہ را...

پانی کا سنگین بحران

Image
   کالم : عتیق چوہدری  پاکستان آج پیچیدہ آبی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہ بحران صرف پانی کی مقدار تک محدود نہیں بلکہ اس کے معیار اور سب سے بڑھ کر ناقص انتظامی ڈھانچے (گورننس) میں موجود خلاء سے جڑا ہوا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک 2024 کی تازہ ترین رپورٹ اس حقیقت کا ایک لرزہ خیز نقشہ پیش کرتی ہے کہ ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک ایسی قومی ایمرجنسی ہے جو صحت، معیشت اور ماحولیاتی استحکام کو یکساں طور پر متاثر کر رہی ہے۔اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بارہ برسوں میں پانی کے تحفظ کے قومی اسکور میں معمولی بہتری (6.4 پوائنٹس) ضرور آئی ہے لیکن یہ بہتری آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تغیرات، اور خراب انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1972 میں 3,500 مکعب میٹر سے ڈرامائی طور پر کم ہو کر 2020 تک صرف 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہےجو اسے آبی قلت کے خطے میں دھکیل چکی ہے۔ یہ کمی نہ صرف ہماری زراعت کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ صنعتی اور...

ای چالان ،ای چالان، بھاری جرمانے اور عوامی مشکلات

Image
  کالم : عتیق چوہدری حکومت پنجاب کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے سخت نظام اور بھاری جرمانے کے نفاذ نے جہاں ایک طرف سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہیں دوسری طرف عام آدمی اور خاص طور پر سکول  اور  کالج  جانے والے بچوں کے لیے روزمرہ کی زندگی میں نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ہزاروں روپے کے غیر متوقع جرمانے ایک غریب یا متوسط طبقے کے شہری کے  ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتے ہیں جس سے خاندانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری گرفتاریوں کی پالیسی نے سڑکوں پر خوف کی فضا پیدا کر دی ہے اور جب کوئی عام شہری یا نوجوان ڈرائیور معمولی غلطی پر بھی گرفتاری کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اور اس کے خاندان کے لیے پریشانی، وقت کا ضیاع اور قانونی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ نوجوانوں کا کرمنل ریکارڈ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ نوکری بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ سکول جانے والے بچوں کے والدین جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ بچوں کو وقت پر سکول چھوڑنے کی جلدی میں ہوتے ہیں اب مسلسل اس خوف میں ...