معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ
کالم : عتیق چوہدری حکومت کی جانب سے معاشی بحران سے نکلنے کے دعوے اپنی جگہ لیکن کلیدی اقتصادی اشاریے زمینی حقائق کی سنگینی کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ ملک کی معیشت کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کا تناسب، برآمدات کی کارکردگی، بیروزگاری کی شرح اور قوت خرید جیسے اشاریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔کسی بھی معیشت کی ترقی کا انحصار اس کی سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کے تناسب پر ہوتا ہے جو پاکستان میں شدید تشویشناک ہے۔ یہ تناسب خطے کے دیگر ممالک جہاں یہ 25 سے 30 فیصد کے قریب ہے کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024ء میں انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13.1 فیصد کی کم ترین سطح تک گر گئی جسے نظر ثانی کے بعد 13.8 فیصد کیا گیا۔ مالی سال 2025ء میں معمولی اضافے کے باوجود یہ 14.1 فیصد تک پہنچی مگر یہ 2023ء کی سرمایہ کاری پالیسی میں طے شدہ 20 فیصد کے ہدف سے اب بھی بہت دُور ہے۔ اس مایوس کن منظر نامے کو مزید تقویت اس امر سے ملتی ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران براہ را...