نئے صوبے اب ناگزیر ؟
نئے صوبے اب ناگزیر ؟
کالم : عتیق چوہدری
پاکستان اس وقت سیاسی بے یقینی، انتظامی بدحالی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن پر جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے جس کے نتیجے میں حقیقی معاشی ترقی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں گورننس کے ڈھانچے کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لئے اسٹرکچرل ریفارمز کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ برسوں میں 5 سے 6.5 فی صد تک بہتر ہوسکتی ہے اور جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل اضافہ ممکن ہے۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کی گورننس کے یہ دیرینہ مسائل کیسے حل ہوں؟ عوام تک خدمات کی آسان، سستی اور بروقت فراہمی ، شفافیت، موثر احتساب، قانون کے یکساں اطلاق، معاشی و سماجی انصاف کےلئے کن انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے انتظامی ڈھانچہ بہتر پرفارم کرے؟ ۔ عدلیہ میں 27 ویں ترمیم کے بعد ایک بڑی آئینی تبدیلی سامنے آ چکی ہے اور اب ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق جب تک نئے انتظامی یونٹ نہیں بنیں گے، گورننس میں بہتری، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، سماجی ترقی اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔ ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کے آئینی طریقہ کار میں ترمیم کی تجویز دی ہے، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے بھی منظوری ضروری ہے۔ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں ماضی میں نئے صوبوں کی حامی رہ چکی ہیں مگر آج وہی جماعتیں اس میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ سوال یہ ہے پھر سیاسی جماعتیں آگے بڑھنے سے ہچکچاہٹ کیوں دکھا رہی ہیں؟۔فیصل واڈا، بیرسٹر عقیل ملک اور رانا ثناء اللہ 28 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ اور بلدیاتی نظام کے آرٹیکلز میں ترمیم کا اشارہ دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور میاں عامر محمود بھی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کو مسائل کا واحد حل قرار دیتے ہیں۔ لیکن رکاوٹ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی آسانی سے نئے صوبوں پر رضامند نہیں ہوگی اور پنجاب حکومت بھی مزاحمت کرے گی۔سیاسی و جماعتی مفادات اپنی جگہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچہ عوامی خدمت کے لیے غیر مؤثر ہوچکا ہے،عالمی بنک 2025 کی رپورٹ بھی پاکستان کے معاشی ماڈل کو ناکام قرار دے چکی ہے ۔بہتر گورننس تب ممکن ہے جب اختیارات اور فنڈز حقیقی طور پر نیچے منتقل ہوں، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور انتظامی اکائیاں اتنی بڑی نہ ہوں کہ انہیں سنبھالنا ہی مشکل ہو جائے۔ اٹھارویں ترمیم نے اختیارات تو وفاق سے صوبوں کو دیے مگر صوبوں کے اندر مزید تقسیم کا عملی نظام نہیں بنایا۔ اختیارات وزیراعلیٰ اور کابینہ تک محدود رہ گئے اور این ایف سی کے پیسہ کے فوائد پسماندہ اضلاع تک نہ پہنچ سکے۔دنیا کے بڑے ممالک نے بہتر گورننس کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے ہیں۔ بھارت آبادی اور انتظامی ضرورت کے مطابق ریاستیں تقسیم کرتا رہا ہے جبکہ امریکا میں 50 ریاستیں اپنی سطح پر عوامی خدمات کی مکمل ذمہ دار ہیں ۔جنرل ضیا کے دور میں بھی آفاق انصاری رپورٹ میں بھی 13 صوبے تجویز کئے گے تھے مگر عملی اقدامات نہ ہوسکے ۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں اور این ایف سی پر نظرثانی کے لیے ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئے انتظامی ڈھانچے، فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور سینیٹ کی تنظیم نو جیسے معاملات کا واضح فارمولا طے کرے۔ مسلم لیگ ن 2012 میں قومی اسمبلی میں خود اس طرح کے کمیشن کا مطالبہ کرچکی ہے ۔این ایف سی کی طرح صوبوں کے اندر پی ایف سی کو آئینی حیثیت دینا بھی ناگزیر ہے۔ قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے تاکہ فیصلے صوبائی، لسانی یا علاقائی کے بجائے انتظامی بنیادوں پر ہوں، وفاق مضبوط ہو اور قومی یکجہتی فروغ پائے۔ ارباب اختیارو اقتدار کو ذاتی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اتفاقِ رائے کے لئے گرینڈ ڈائیلاگ کاراستہ اپنانا ہوگا تاکہ انتظامی بنیادوں پرنئے صوبوں کی تشکیل کا راستہ کھل سکے۔

Comments
Post a Comment