شدت پسندی کا متبادل بیانیہ ضروری
عتیق چوہدری پاکستانی معاشرہ آج ایک گہرے تہذیبی، فکری اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسندی اوردہشت گردی کے ساتھ ساتھ عدم برداشت، فرقہ وارانہ تعصب اور سماجی ہم آہنگی کا فقدان ایک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ ایک صحت مند سماج کی بنیادی شرط "We need to agree to disagree" کا اصول ہےلیکن ہمارا معاشرہ مذہبی، لسانی اور معاشی تعصبات میں بری طرح لتھڑا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں جون ایلیا کا شعر "آؤ اختلاف رائے پر اتفاق کرلیں" ایک اجتماعی خواہش بن چکا ہے۔گزشتہ ہفتے منہاج یونیورسٹی میں بین المذاہب ہم آہنگی پر ایک نہایت اہم اور معنویت سے بھرپور کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جس کا مرکزی موضوع شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ پر مبنی تھا۔یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ تعلیمی ادارے اس نوعیت کی علمی و فکری سرگرمیوں کا اہتمام کر رہے ہیں، کیونکہ شدت پسندی محض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں فکری، نظریاتی اور تعلیمی نظام میں پیوست ہیں۔ جب تک اس رجحان کے مقابلے میں ایک ٹھوس، متبادل اور مثبت بیانیہ تشکیل نہیں دیا جاتا تب تک معاشرے میں "جیو اور جینے دو" جیسی ان...

Comments
Post a Comment