ایڈز ،تلخ حقائق اور ہماری ذمہ داریاں
پوری دنیا میں ایڈز سے آگاہی کے لئے یکم دسمبر کوعالمی دن منایا جاتا ہے ۔یکم دسمبر 1988 کو پہلی دفعہ عالمی ادارہ صحت نے یہ دن منانے کا اعلان کیا ۔اس کا مقصد ایڈز سے بچاؤ کے لئے مختلف طریقے وضح کرنا ، عوام الناس کو بچاؤ کے لئے آگاہی دینا اوراس مرض سے متعلق درست معلومات عام کرنا ،علاج کے لئے مریضوں کی ادویات تک رسائی کو یقینی بنانا ہے ۔ ایڈز ایک جان لیوا مرض ہے جسکا وائرس عمومی طور پر غیر فطری جنسی روابط ،غیر محفوظ انتقال خون او ر استعمال شدہ سرنج کے دوبارہ استعمال سے انسانی جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتا ہے ۔ایچ آئی وی ایڈز سے متعلقہ ہزاروں افراد ایسے ہیں جو اس مرض سے متعلق آگاہی نہیں رکھتے جس سے اس بیماری کے پھیلنے کا خدشہ مزید بھڑجاتا ہے ۔ایڈزکا جرثوما ایک وائرس ہے ،جسے طبی اصطلاح مین ہیومن امینوڈیفی شینسی وائرس ’’HIV,Human Immunodeficiency virus‘‘کہا جاتا ہے ۔یہ وائرس خود کوئی مرض یا مرض کی علامت پیدا نہیں کرتا ،بلکہ سفید خلیوں کو ،جوہمہ وقت جسم میں ہر سانس ،پانی کے گھونٹ ،نوالے کیساتھ بنتے ہیں ناکارہ بنا دیتا ہے ۔نیتجۃ جسم کا دفاعی نظام بلکل ناکارہ ہوجاتا ہے ۔قدرت نے انسانی جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لئے ایک مظبوط مدافعتی نظام سے نوازا ہے اس مدافعتی نظام میں خرابی کے باعث انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔اس خطرناک وائرس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے نہایت سنگین اور مہلک صورت اختیار کرلیتی ہے ۔ایڈز کا پہلا باقاعدہ مریض 1980 میں سامنے آیا اور اس کے بعد امریکہ سمیت بیش تر ممالک میں مرض کی دشت پھیلتی گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق 1981 سے لیکر 2007 تک 25 ملین لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ،2013 میں ایسے افراد کی تعداد جو ایڈز سے متاثر ہیں 3 کروڑ 50 لاکھ تھی ،اب تک تقریبا یہ بیماری 40 ملین سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے۔پاکستان میں مستند اعداد وشمار کا فقدان ہے مگر ایک اندازے کے مطابق مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے ۔صحت کی وفاقی وزارت کے خاتمے کے بعد پورے ملک سے اعدادو شمار اکٹھے کرنا ویسے بھی بہت مشکل ہوگیا ہے ۔اقوام متحدہ کی ایڈز ایجنسیUNAIDS اس سال Hands up for#HIVprevention کے نام سے منا رہی ہے ۔پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کیساتھ مل کر مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد فاسٹ ٹریک سٹریٹیجی کے تحت 2020 تک اس وبائی مرض کے پھیلاؤ پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنا ہے ۔2011 سے لیکر 2015 تک ’’Getting to zero ‘‘یعنی مرض کا مکمل خاتمہ کی مہم چلائی گئی تھی ۔اقوام متحدہ کی ایڈز ایجنسی UNAIDS کے مطابق اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کے لئے آگاہی پیدا کرنے ،وائرس سے متاثرہ افراد کی ادویات تک رسائی بڑھانے اور مناسب علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے اور دیگر اقدامات کی بدولت یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ 2030 تک اس جان لیوا مرض کا خاتمہ ہوسکے اس پوری مہم کو ’’کلوز دی گیپ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ایڈز سے متعلق کام کرنے والے ایک بین الاقوامی گروپ کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ ہدف پورا کرنے کے لیئے نہ صرف ٹھوس پلان کی ضرورت ہے بلکہ درست سمت میں عملی اقدامات اٹھانا بھی ناگزیر ہے ۔ اگر ہم وطن عزیز کی بات کریں تو پاکستان میں ایڈز کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لئے سرگرم این جی او کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت کم سامنے آتی ہے مگر صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہے ۔اس کی وجہ لوگ ٹیسٹ کروانے سے گھبراتے ہیں ۔لوگوں کو اس مرض کی سنگینی کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔پاکستان میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 2001 سے 2008 تک ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا ،2008 سے 2015 تک دوسرا پلان نافذ کیا گیا ۔2015 میں 2020 تک کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے جس کے مطابق زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ،صحت کے مراکز میں ادویات کی فراہمی اور ٹیسٹ کروانے کے لئے معیاری لیبارٹریز کا قیام شامل ہے ۔فائلوں کی حد تک تو یہ منصوبہ بہت اچھا ہے مگر جب تلخ حقائق پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال بہت مختلف نظرآتی ہے ۔ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان کا شمار جنوبی ایشیائی ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جنہوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے بہت کم اقدامات کئیے ہیں ۔یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے پاکستان کے دوردراز علاقوں میں معیاری لیبارٹریز تو بہت دور کی بات بنیادی صحت کے مراکز بھی نہیں ہیں ،دیہاتوں میں جو ڈسپنسریاں بنی ہوئی ہیں وہاں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز نہیں بیٹھتے مجبورا غریب لوگوں کو عطائی ڈاکٹروں سے علاج کروانا پڑتا ہے ۔ جو پیسوں کی خاطر انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں مگر حکومت کے متعلقہ ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔وہ این جی اوز جو بیرون ممالک سے ایڈز کے نام پر اربوں روپے کے فنڈزلیتی ہیں وہ عملی اقدامات کی بجائے لاہور ،اسلام آباد اور کراچی کے فائیوسٹارز ہوٹلوں میں سمینارز منعقد کرواکے اپنی ذمہ داریوں سے مبرا ہوجاتی ہیں ۔ اگرچہ اس موذی مرض کا علاج کسی حد تک دریافت ہو چکا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کے عام شہریوں کی اس تک رسائی ممکن نہیں ہے ۔ایچ آئی وی دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ پاکستان کے لئے بھی شدید خطرہ ہے ۔دور دراز پسماندہ علاقوں کے غریب ،ناخواندہ اور جدید ٹیکنالوجی سے نابلد لوگ کئی سالوں تک اس مرض کا شکار ہونے کے باجود ٹیسٹ نہیں کرواتے جس سے یہ وائرس خاندان کے دوسرے لوگوں تک پھیل جاتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے زبانی جمع خرچ سے نکل کر حکومتی ادارے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دیں،ٹھوس اور موثر اقدامات کو یقینی بنائیں ،حکومت اپنی ترجیحات میں صحت کو بنیادی اہمیت دے ،ترقیاتی بجٹ میں زیادہ سے زیادہ مراکز صحت ،جدید لیبارٹرز کا قیام یقینی بنایا جائے ۔ڈاکٹرز کو مناسب تربیت دلوائی جائے تاکہ وہ لوگوں کو علاج کیساتھ اس مرض کے مزید پھیلاؤ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی بتائیں ۔ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کرنے والے ادارے ہیلتھ کئیر کمیشن کو مزید مضبوط اور فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے شہروں کیساتھ چھوٹے شہروں میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کرے ،سخت قوانین کے ساتھ ان پر عملدرآمد بھی بہت ضروری ہے ۔چونکہ اس موذی مرض کا زیادہ پھیلاؤ سرنج کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے بھی ہورہا ہے ۔ زندگی اللہ تعالی کی نعمت ہے ،ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئیے ۔ایڈز جیسے مہلک مرض سے بچنے کے لئے ہمیشہ اپنے جیون ساتھی تک محدود رہیں ،اگر ٹیکہ لگوانا ضروری ہو تو ہمیشہ غیر استعمال شدہ نئی سرنج استعمال کریں ،خون کا عطیہ لینے سے پہلے ایچ آئی وی اسکرینگ لازمی کروائیں ۔اس مہلک مرض کا سستا اور موثر علاج یہی ہے کہ اس مرض سے بچنے کے لئے ہر ممکن احتیاط برتی جائے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ ایڈز اچھوت کی بیماری نہیں ہے یہ مریض کے ساتھ بیٹھنے ،چھونے سے منتقل نہیں ہوتی اس لئے اس کے جو مریض ہوان سے نفرت کی بجائے ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئیے ۔
Comments
Post a Comment