پیغام شہادت امام حسین

پیغام شہادت امام حسین
دنیا میں بے انتہا ناقابل فراموش واقعات گزرے ہیں جن کو ہم بھول نہیں سکتے اور ہر سال ان کی یاد منائی جاتی ہے لیکن جس طرح واقعہ کربلا ہر سال ہمارے قلب ونظر میں سماتا ہیاس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، اگر واقعہ کربلا محض تاریخ کا ایک با ہوتا تو اس کی یاد اتنے برس گزرنے کے بعد ہمارے قلوب میں غم و افسوس کے جذبات اور ہماری رگوں میں ظلم و ستم کی یہ وہ کسوٹی ہیجس پر ہر دور کا انسان پرکھا جائے گا۔

محرم الحرام کا مہینے میں نواسہ رسول حضرت امام علیہ ا لسلام کی اس عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے جو دین محمدی کی بقا کا باعث ہے آپ نے کربلا کے میدان میں اپنے اصحاب و اقربا کے ساتھ جو عظیم الشان قربانی پیش کی تاریخ اسلام میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی آپ نے دین اسلام کی سربلندی کیلئے اور حق کیلئے اپنی جان کی قربانی دی حضرت امام حسین نے دین کی بنیادی اقدار اور سچائی کے اظہارکیلئے میدان کربلا میں اپنا اور اپنی اولاد کا خون دے کر دین اسلام کو بچا لیا آپ کی عظیم قربانی معراج درس گاہ انسانیت ہے ۔

واقعہ کربلا انسانیت کو جینے کا سلسلہ سکھایا اور ظالم و جابر حکمرانوں کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ بخشا، سانحہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک لکیر ہے جو دونوں کے فرق کو واضع کرتی ہے ۔ حضرت امام حسین میدان کربلا میں اپنا چھ ماہ کا شیر خوار قربان کیا کڑیلہ نوجوان علی اکبر بھانجے بھتیجیوں اور دوستوں کو قربان کیا تین دن اور تین راتیں بھوکھے پیاسے رہے مگر ملوکیت کو قبول نہیں کیا اور اسلام کا پرچم سربلند کیا
آئیے ان مقاصد کو دیکھیں جن کیلئے جگر گوشہ امام علی مقام اپنے چہیتوں کو لیکر میدان کربلا آئے، عرب کے تمون میں قانون کا ایک اصول تھا صرف طاقت، طاقت جواز زندگی تھی اور کم زدری و غریب کیلئے معاشرتی حقوق تو درکار خود اپنے وجود پر اختیار نامکمل تھا رن و نسل زبان قبائل اشرافیت کی دلیل تھے ، یہ وہ فعل جس سے عقل و فطرت کراہت کرتی تھی عرب تمدن کا حصہ تھا ایسے میں رسول اکرم ۖ کیلئے انسانیت کی ترتیب سے عرب کا معاشرہ شرافیت انسانی کے مرکز کی طرف واپس آ گیا جس وقت دولت سمٹ سمٹ کر حضور اکرم ۖ کے قدموں میں آ رہی تھی آپ کی دولت دنیا کی طر ف ایسی بے عتنائی تھی صبح جمع ہونے والا پیسا شام ہونے سے پہلے غریبوں میں تقسیم ہو جاتا اور لوگ دیکھتے کہ سرکار کے گھر میں وہی بوسیدہ پردہ پڑا ہے اور کئی کئی دن چالہا نہیں جلتا مگر دور یزید میں حضرت امام حسین دیکھ رہے تھے کہ اسلام کی شناخت کی تمام تصویر مٹائی جا رہی ہے میں بادشاہ سلامت کے منہ نکلے فقرے اسلام کی راہ میں تاویلیں بنا رہے ہیں۔

شریعت اسلام باشاہ کی من مانی تاویلون اور احکام کی زد میں تھی ان سب باتوں کا خوف ناک پہلو یہ تھا کہ حکمران اپنی حکومت کو اسلامی کہلاتے اور ان کا فرمایا ہوا اسلامی قانون کا حصہ سمجھا جاتا اور آہستہ آہستہ سرے سے دین کی حقیقت کا خاتمہ ہونا شروع ہو گیااس بات کو نواسہ رسول کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ اللہ کے دین کو جس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی محنت شامل ہو یوں مسمار ہوتا دیکھیں۔

امام حسین کا وہی مقصد تھا جس کیلئے آدم سے لیکر آخری نبی تک ہر نبی نے مصیبت جھیلیں اور وہ مقصد نجات انسانیت تھا ، امام حسین چاہتے تھے لوگوں میں قوت احساس اور جرات بحال ہو اور صحیح اور غلط کا فیصلہ احکام الہی کی روشنی میں کریں اور اسلام کے اصول اس طرح روشن ہوں کہ کسی کا انفرادی عمل اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بن سکے ۔ آپ یزید کے خلاف فوج جمع کر کے مقابلہ کر سکتے تھے لیکن اس صورت میں یہ جنگ محض اقتدار کے خواہش مند دو افراد کے درمیان جنگ بن جاتی اور یہ بھی ممکن تھا کہ آپ یزید کے اقتدار کو ختم کر دیتے مگر اس صورت میں یزید ختم ہو جاتا یزدیت ختم نہیں ہوتی ، افراد بدلتے زہنیت نہیں آپ کا مقصد زہنیت بدلنا تھا وہ ملوکیت کے چہرے سے اسلام کی نقاب نوچنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے ظلم کے مقابے میں مظلومیت کا ہتھیار استعمال کیا ح۔سین ایک ایک یزیدیت کے مقابل بھیجتے رہے تاکہ کردار نظر آئے اور با لآخر ظلم کے چہرے سے آخری نقاب اتارنے کیلئے جھولے میں لیٹے ہوئے بچے کو بھی لے کر آئے اور پھر خود گرن زیرشمشیر رکھ دی اب کسی کو اسلام کے ابدی اصولوں کو مسمار کرنے اور اپنی خواہشات کو دین کا نام دینے کی ہمت نہیں ہو گی
روز عاشور کا سورج کچھ دیر کیلئے چمکا اور ایسا چمکا کہ اس دن کی روشنی اور جگمگاہٹ ساری دنیا میں پھیل گئی یہ محض عاشور کا کرشمہ ہے کہ ہو ستم کے مقابے میں کوئی نہ کوئی ستم شکن پیدا ہو جاتا ہے یہ اسی دن کا درس ہے جو ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے اس دن ہیبت نے ہر چھوٹے بڑے ظالم کو لرزا کر رکھ دیا یہ روز عاشور کی ہی صدا ہے جو صدیاں گزنے باوجود مظلوم انسانوں کی سرزمین افریقا میں بلند ہوتی ہے کھبی ایشیا میں کبھی فلسطین اور لبنان میں سسکیوں کے ساتھ لرزتی ہے تو کبھی کشمیر میں درندہ صفت انسانوں کے ظلم وستم کے خلاف حتجاج کرتی ہے یہ وہ صدا ہے جو کربلا میں امام حسین نے ظلم وستم ،بربریت اور استماری طاقتوں کیخلاف بلند کی تھی آپ نے ظلم کے آئین کو توڑ دیا اور ظلم اور ظالم کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت اور زہنوں میں شعور اجاگر کیا ۔
آپ نے ایک مکتب فکر کی بنیاد رکھی ایک ایسا مکتب جو قربانی، صبر اور جاںنثاری کا سبق دیتا ہے ایثار اور بہادری تعلیم دیتا ہے ، عام مفہوم میں امام حسین غریبوں کو سہارا ، مجاہدوں کی طاقت ، شرعیت کے پاسبان اور شریعت محمدی کیحقیقی نگرانہیں، آپ نے یہ درس بھی دیا کہ خود غرضی کی وجہ سے نہیں بلکہ مظلوموں کو حقوق کی حفاظت کیلئے لڑنا چاہیے جو بے انصافی کا شکار ہیں۔

آج امت مسلمہ پر ایک امام حسین کی منتظر ہے کیا ان کیلئے ایک امام کافی نہیں جس نے ہمیں تمام راہیں دکھا دیں ہم مساوات اور اتحاد کو پیچھے چھوڑ گئے ہم آج اپنی عوام پر ظلم کرتے ہیں ان کے حقوق پورے نہیں کرتے امت مسلمہ کے حکمران غرور و تکبر میں مبتلا ہیں عوم کا استحصال کرنے میں لگے ہیں۔ شہادت حسین کا اصل پیغام یہ ہے کہ امتہ مسلمہ میں وحدت ، یگانگت اور یکجہتی کا تصور پیدا ہو ، امتہ مسلمہ کو تباہی کے گڑھے یں گرنے سے بچانے کیلئے اتحاد ، امن ، رواداری کو اپنانا ہو گا ۔ فرقہ ورایت ، فسادات سے بچنا ہو گا ، غریبوں کو ان کے حقوق دینے ہونگے قانون ہرچھوٹے بڑے کیلئے یکساں ہونا چاہیے ۔ رنگ و نسل ذات پات کی کوئی تفریق نہ ہو ۔ ہم اپنے ایمان کے مرکز و محور کو پہچاننے کی کوشش کریں اپنے مسلک چلیں اور دوسرے پر طعن نہ کیا جائے ۔ کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا کہ کسی پہ ظلم نہ ہو کاش دنیا حضرت امام حسین کے پیغام ان کی تعلیم اور مقصد کو سمجھیں اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کریں۔
حسین قوت اسلام کی علامت ہیں
حسین دین محمدی کی اصل حرمت ہیں

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟