ممتاز شاعر محسن نقوی کی برسی
انہیں جو ناز ہے خود پہ، نہیں وہ بے وجہ محسن
کہ جسکو ہم نے چاہا ہو، وہ خود کو عام کیوں سمجھے
کہ جسکو ہم نے چاہا ہو، وہ خود کو عام کیوں سمجھے
آج اردو کے ممتاز شاعر محسن نقوی کی برسی ہے۔محسن نقوی کا شمار اردو کے خوش گو شعرا میں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں بندقبا، ردائے خواب، برگ صحرا، موج ادراک، ریزہ حرف، عذاب دید، طلوع اشک، رخت شب، فرات فکر، خیمہ جاں اور میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی شامل ہے۔
دشت ہجراں میں سایہ نہ صدا تیرے بعد..کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد
شاعری انسان کی حس جمالیات کو تر و تازہ رکھنے کے لیئے آکسیجن کی طرح ضروری ہوتی ہے۔ تخیلات اور افلاک کی پرواز کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایک اچھا شاعر ہمیشہ ہی سے حدود و قیود کی پرواہ کیئے بنا افکار و خیالات کو لا محدود اڑان بخشتا ہے۔ اردو شاعری میں یوں تو بے حد بڑے بڑے اور نامور شعراءپائے جاتے ہیں جن کا کلام صدیوں اور دہائیوں کے بعد آج بھی زندہ ہے۔ ہم اگر گزشتہ چند دہائیوں کا مشاہدہ شاعری کے حوالے سے کریں تو اس افق پر فیض احمد فیض، احمد فراز، امجد اسلام امجد، حبیب جالب ،افتخار عارف، پروین شاکر اور محسن نقوی جیسے ستارے چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔
> ان تمام ناموں میں سے ایک نام محسن نقوی ایسی شخصیت اور شاعر ہیں جنہیں نقادوں اور ادب کے اجارہ داروں نے ہمیشہ زیادتی کا شکار بناتے ہوئے وہ مقام عطا نہ کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ محسن نقوی نے اپنی شاعری میں روایتی محبوب اور محبت یا ہجر و فراق کے نشیب و فراز بیان کرنے کے علاہ سماجی زیادتی، معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو بھی موضوع سخن بنایا۔ ایک شاعر اس وقت پختگی یا بلوغت کی سطح پر پہنچتا ہے جب وہ اپنی ذات کے غم اور حادثات سے باہر نکل کر معاشرے اور انسانیت کے بارے میں روانی سے تحریر کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ محسن نقوی کی شاعری میں پختگی اور ان کے اسلوب بیاں کا منفرد ہونا انہیں عہد حاضر کے شعراءسے یکسر مختلف اور بے حد بلند مقام دیتا ہے
محسن نقوی کی شاعری کے کئی مختلف پہلو ہیں۔ رومانوی پہلو جو کہ ہر شاعر کی تصانیف میں شامل ہوتا ہے محسن نقوی کے ہاں بھی موجود تھا محسن نقوی نے رومانوی شاعری میں غزل کی کلاسیکل اٹھان کو تو نہ چھوڑا لیکن اسے ایک نئی جدت عطا کی۔
کئی اُلجھی رُتوں کے بعد آیا
تیری زلفیں سنور جانے کا موسم اردو نظم میں بھی محسن نقوی نے کمال مہارت سے سخن آرائی کی۔
میں نے اس طور تجھے چاہا جاناں جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے۔۔
کیوں رات کی ریت میں بکھری ہوئے تاروں کے کنکر چنتی ہو۔۔
ہوا صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی آنکھوں جیسی لاتعداد نظمیں آج بھی نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں۔
محسن نقوی کی شاعری میں بھی اہل بیعت سے محبت کا رنگ نمایاں رہا ۔۔۔ ان کی شاعری کا سب سے نمایاں حصہ انسانیت اور معاشرے کا درد تھا۔
کرب محسن کی مسافت کے خداوند جلیل
خاک زادوں کو سدا بخت سکندر دینا
جیسا بڑا اور اعلیٰ دعائیہ شعر جو کہ تمام آدم زادوں کیلئے تھا محسن نقوی جیسا شاعر ہی لکھ سکتا تھا۔۔
مجھے خبر ہے کہ جنگ ہو گی ۔۔۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں۔۔۔
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے۔۔
ایک بھکارن۔۔ جیسی کئی لاتعداد نظمیں اور غزلیں انسانوں کی تکالیف اجاگر کرتیں اور امن کی خواہش لیئے آج بھی محسن نقوی کے انسانیت دوست سوچ کا واضح ثبوت ہیں۔
دشت ہجراں میں سایہ نہ صدا تیرے بعد..کتنے تنہا ہیں تیرے آبلہ پا تیرے بعد
شاعری انسان کی حس جمالیات کو تر و تازہ رکھنے کے لیئے آکسیجن کی طرح ضروری ہوتی ہے۔ تخیلات اور افلاک کی پرواز کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایک اچھا شاعر ہمیشہ ہی سے حدود و قیود کی پرواہ کیئے بنا افکار و خیالات کو لا محدود اڑان بخشتا ہے۔ اردو شاعری میں یوں تو بے حد بڑے بڑے اور نامور شعراءپائے جاتے ہیں جن کا کلام صدیوں اور دہائیوں کے بعد آج بھی زندہ ہے۔ ہم اگر گزشتہ چند دہائیوں کا مشاہدہ شاعری کے حوالے سے کریں تو اس افق پر فیض احمد فیض، احمد فراز، امجد اسلام امجد، حبیب جالب ،افتخار عارف، پروین شاکر اور محسن نقوی جیسے ستارے چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔
> ان تمام ناموں میں سے ایک نام محسن نقوی ایسی شخصیت اور شاعر ہیں جنہیں نقادوں اور ادب کے اجارہ داروں نے ہمیشہ زیادتی کا شکار بناتے ہوئے وہ مقام عطا نہ کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ محسن نقوی نے اپنی شاعری میں روایتی محبوب اور محبت یا ہجر و فراق کے نشیب و فراز بیان کرنے کے علاہ سماجی زیادتی، معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو بھی موضوع سخن بنایا۔ ایک شاعر اس وقت پختگی یا بلوغت کی سطح پر پہنچتا ہے جب وہ اپنی ذات کے غم اور حادثات سے باہر نکل کر معاشرے اور انسانیت کے بارے میں روانی سے تحریر کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ محسن نقوی کی شاعری میں پختگی اور ان کے اسلوب بیاں کا منفرد ہونا انہیں عہد حاضر کے شعراءسے یکسر مختلف اور بے حد بلند مقام دیتا ہے
محسن نقوی کی شاعری کے کئی مختلف پہلو ہیں۔ رومانوی پہلو جو کہ ہر شاعر کی تصانیف میں شامل ہوتا ہے محسن نقوی کے ہاں بھی موجود تھا محسن نقوی نے رومانوی شاعری میں غزل کی کلاسیکل اٹھان کو تو نہ چھوڑا لیکن اسے ایک نئی جدت عطا کی۔
کئی اُلجھی رُتوں کے بعد آیا
تیری زلفیں سنور جانے کا موسم اردو نظم میں بھی محسن نقوی نے کمال مہارت سے سخن آرائی کی۔
میں نے اس طور تجھے چاہا جاناں جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے۔۔
کیوں رات کی ریت میں بکھری ہوئے تاروں کے کنکر چنتی ہو۔۔
ہوا صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی آنکھوں جیسی لاتعداد نظمیں آج بھی نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں۔
محسن نقوی کی شاعری میں بھی اہل بیعت سے محبت کا رنگ نمایاں رہا ۔۔۔ ان کی شاعری کا سب سے نمایاں حصہ انسانیت اور معاشرے کا درد تھا۔
کرب محسن کی مسافت کے خداوند جلیل
خاک زادوں کو سدا بخت سکندر دینا
جیسا بڑا اور اعلیٰ دعائیہ شعر جو کہ تمام آدم زادوں کیلئے تھا محسن نقوی جیسا شاعر ہی لکھ سکتا تھا۔۔
مجھے خبر ہے کہ جنگ ہو گی ۔۔۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں۔۔۔
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے۔۔
ایک بھکارن۔۔ جیسی کئی لاتعداد نظمیں اور غزلیں انسانوں کی تکالیف اجاگر کرتیں اور امن کی خواہش لیئے آج بھی محسن نقوی کے انسانیت دوست سوچ کا واضح ثبوت ہیں۔
نقادوں اور ساتھی شعرا کے نازیبا رویوں سے محسن نقوی نے تنگ آنے کے بجائے اپنی شاعری کے ذریعے ان کی نا انصافیوں کو بھی اجاگر کیا۔ میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی
یہ طویل نظم محسن نقوی کی ذات ان کی زندگی کے درد اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو خوب اجاگر کرتی ہے۔
محسن نقوی جس دور میں شاعری کرتے تھے وہ ایک بدترین آمر ضیاالحق کا دور تھا چنانچہ ہر بڑے شاعر کی طرح ان کی شاعری میں بھی حاکم وقت کے خلاف مزاحمتی رنگ موجود رہا۔ یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا۔۔
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی
یہ طویل نظم محسن نقوی کی ذات ان کی زندگی کے درد اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو خوب اجاگر کرتی ہے۔
محسن نقوی جس دور میں شاعری کرتے تھے وہ ایک بدترین آمر ضیاالحق کا دور تھا چنانچہ ہر بڑے شاعر کی طرح ان کی شاعری میں بھی حاکم وقت کے خلاف مزاحمتی رنگ موجود رہا۔ یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا۔۔
ابھی تو سوئے تھے ہم مقتل کو سرخرو کر کے۔
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے ۔۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں، جیسی لاتعداد غزلیں اس دور کے جبر اور گھٹن کو بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 کے دن اقبال ٹاون لاہور میں گولیوں سے چھلنی کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ محسن نقوی کو مارنے والے یہ بات بھول گئے کہ اہل قلم اپنے الفاظ اور سوچ کے سہارے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ محسن نقوی آج بھی اپنی شاعری کی صورت میں ہم میں موجود ہیں اور اس امر کا ثبوت بھی کہ امن و محبت کے نام لیواوں کو نفرت یا جہالت کے اندھیرے کبھی بھی نہیں مٹا سکتے۔ البتہ ادبی دنیا کی بے حسی اور من پسند افراد کو سراہنے کی عادت کا تدارک ضرور ہونا چاہیے۔ جہاں بہت سے سستے شاعر شاعری کی صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہوئے ایک ڈیڈھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھے ہیں۔ محسن نقوی کو کم سے کم ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اکیڈمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کی یاد میں ایک مشاعرے کا بندوبست ضرور ہونا چاہیے۔ زندہ معاشرے اپنے ادیبوں فنکاروں اور ہیروز کو خراج عقیدت پیش کر کے ان کے تخلیقی کاموں کو تا ابد حیات رکھتے ہیں۔
#DeathAnniversary #MohsinNaqv
انکار کیا کرے گی ہوا میرے سامنے ۔۔
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں، جیسی لاتعداد غزلیں اس دور کے جبر اور گھٹن کو بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 کے دن اقبال ٹاون لاہور میں گولیوں سے چھلنی کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ محسن نقوی کو مارنے والے یہ بات بھول گئے کہ اہل قلم اپنے الفاظ اور سوچ کے سہارے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ محسن نقوی آج بھی اپنی شاعری کی صورت میں ہم میں موجود ہیں اور اس امر کا ثبوت بھی کہ امن و محبت کے نام لیواوں کو نفرت یا جہالت کے اندھیرے کبھی بھی نہیں مٹا سکتے۔ البتہ ادبی دنیا کی بے حسی اور من پسند افراد کو سراہنے کی عادت کا تدارک ضرور ہونا چاہیے۔ جہاں بہت سے سستے شاعر شاعری کی صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہوئے ایک ڈیڈھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھے ہیں۔ محسن نقوی کو کم سے کم ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اکیڈمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کی یاد میں ایک مشاعرے کا بندوبست ضرور ہونا چاہیے۔ زندہ معاشرے اپنے ادیبوں فنکاروں اور ہیروز کو خراج عقیدت پیش کر کے ان کے تخلیقی کاموں کو تا ابد حیات رکھتے ہیں۔
#DeathAnniversary #MohsinNaqv
Comments
Post a Comment