Posts

ناکام معاشی ماڈل اور نوجوانوں کی مایوسی

Image
    پاکستان کا موجودہ معاشی منظرنامہ کئی دہائیوں کی ناکام پالیسیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے تسلط کا براہ راست نتیجہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار  کے مطابق محنت کش اور متوسط طبقہ معاشی تحفظ کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جب کہ نوجوان نسل مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔قومی لیبر فورس سروے 25-2024ء کے نتائج اس تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہےجو کہ سال 2020-21 کی 6.3 فیصد شرح سے 0.8 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بے روزگاری میں یہ اضافہ تشویشناک ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 80 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے۔روزگار کی تقسیم کے لحاظ سے سروسز سیکٹر 41.7 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے (3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد) اس کے بعد زرعی شعبہ 33.1 فیصد (2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد) اور صنعتی شعبہ 25.7 فیصد (1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد) پر ہے۔ مزدور منڈی کی اکثریت اب بھی غیر رسمی اور کم اجرت والی ملازمتوں پر مشتمل ہےجہاں 85...

The Unheeded Election Warning

Image
Column: Atiq Chaudhary  The most recent round of by-elections in Pakistan, far fro m being mere local political skirmishes, have delivered a chillingly clear verdict on the nation’s democratic health. The results are a stark, comprehensive report card exposing deep-seated structural frailties: the corrosive dominance of entrenched dynastic politics, the pervasive and deeply concerning public apathy towards the electoral process, and critical internal democratic deficits within the major political parties. Taken together, these issues signal a profound crisis of public confidence and political succession that no party, regardless of its momentary electoral gain, can afford to dismiss. To ignore these indicators would be to gamble recklessly with Pakistan’s democratic trajectory. A thorough analysis of the by-election outcomes reaffirms a grim reality: the path to political power in Pakistan is increasingly paved by hereditary lineage, not merit or public service. This pattern is the...

ضمنی انتخابات کا سبق!

Image
 ​  کالم : عتیق چوہدری  حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے پاکستانی جمہوریت کے نظام میں پنہاں کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ انتخابات صرف سیاسی فتح و شکست کا معمولی واقعہ نہیں ہیں بلکہ یہ ملک میں گہری ہوتی ہوئی موروثی سیاست، انتخابی عمل سے عوامی لاتعلقی ، سیاسی جماعتوں کی داخلی کمزوریاں ،عوامی رابطے کی کمی اور انتخابی اصلاحات کی ناگزیر ضرورت کی طرف اشارہ ہیں۔ ان نتائج کا تجزیاتی مطالعہ کئی ایسے تلخ حقائق سامنے لاتا ہے جن سے منہ موڑنا کسی بھی سیاسی جماعت یا ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہو گا۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ  پاکستانی پارلیمانی جمہوریت کے اندر ایک خاندانی جمہوریت فروغ پا چکی ہے۔ کامیابی کا راستہ عوامی خدمت، سیاسی تجربے یا قابلیت سے نہیں بلکہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ وفاقی وزراء، مشیروں اور موجودہ یا سابق اراکینِ اسمبلی کے رشتہ داروں کی کثیر تعداد میں آپس میں مقابلہ بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختیار اب وراثت میں منتقل ہو رہا ہے۔ یہ مہنگا نظام انتخاب اور انتخابات   اب عام آدمی کی نمائندگی کا ذریعہ...

نئے صوبے اب ناگزیر ؟

Image
  نئے صوبے  اب ناگزیر ؟  کالم : عتیق چوہدری  پاکستان اس وقت سیاسی بے یقینی، انتظامی بدحالی اور معاشی بحران  کا سامنا کر رہا ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن پر جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے جس کے نتیجے میں حقیقی معاشی ترقی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ رپورٹ  میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں گورننس کے ڈھانچے کو شفاف اور مؤثر  بنانے کے لئے اسٹرکچرل ریفارمز  کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ برسوں میں 5 سے 6.5 فی صد تک بہتر ہوسکتی ہے اور جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل اضافہ ممکن ہے۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کی گورننس کے یہ دیرینہ مسائل کیسے حل ہوں؟ عوام تک خدمات کی آسان، سستی اور بروقت فراہمی ، شفافیت، موثر احتساب، قانون کے یکساں اطلاق، معاشی و سماجی انصاف  کےلئے کن انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے انتظامی ڈھانچہ بہتر پرفارم کرے؟ ۔ عدلیہ میں 27 ویں ترمیم کے بعد ایک بڑی آئینی تبدیلی سامنے آ چکی ہے اور اب ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحا...

ٹرمپ ، محمد بن سلمان ملاقات اورپاکستان

Image
    کالم : عتیق چوہدری  سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی شہرہ آفاق کتابڈپلومیسی  میں لکھا تھا کہ "عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔"     تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے  میں جو نئی صف بندی ہورہی ہےوہ دنیا کی معاشی ترجیحات کو دیکھ کر ہی ہورہی ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ کے بدلتے تعلقات اور معاشی و دفاعی  ترجیحات سے مشرق وسطی کا نیا منظرنامہ بن رہا ہے  ۔ مشرق وسطی میں طاقت کا توازن اب بہت حد تک بدل گیا ہے جس میں سعودی عرب کا اثرو رسوخ کافی بڑھ گیا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ ملاقات جس نےایف 35  طیاروں کی ممکنہ ڈیل اور ایک کھرب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا دروازہ کھولا عالمی میڈیا کے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل مفادات کی نئی ترجیحات کا اعلان ہے ۔دی نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ F-35 ڈیل امریکہ کی پچاس سالہ پالیسی (اسرائیل کی فوجی برتری) میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کو محدود کرنا اور ریاض کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے دور رکھنا...

The TTP Nexus: How Kabul's Failed Governance Endangers Regional Peace

Image
  By Atiq Chaudhary The collapse of the third round of crucial Pakistan-Afghanistan peace talks in Istanbul signals a dangerous and immediate crisis on the volatile border. Despite deep ties, the relationship is now defined by deadlock, with Pakistan's Defence Minister unequivocally declaring negotiations "over." This diplomatic breakdown stems directly from the Afghan Taliban's unwillingness to commit to a written agreement to curb the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP), confirming that the regime’s governance failure is fueling cross-border violence. By maintaining an ideological sanctuary for the TTP and showing persistent disregard for established international norms, the Afghan leadership is not only failing its own people but actively inviting a renewed confrontation that jeopardizes stability across the entire South Asian region. Historically, Pakistan has been uniquely indulgent of Afghan demands. For decades, it facilitated a laissez-faire culture of trade and h...

پاکستان سنگین آبی بحران کے دہانے پر

کالم : عتیق چوہدری  عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ بحران صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی، ماحولیاتی اور یہاں تک کہ قومی سلامتی کو بھی براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطرے کی شدت کے باوجودملک کا آبپاشی کا فرسودہ نظام اور غیر مؤثر آبی انتظام اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔عالمی بینک کی حالیہ گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک تشویشناک حقیقت کا بیان ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہے جہاں زراعت میں پانی کا استعمال انتہائی غیر مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی پاکستان کو ’انتہائی آبی عدم تحفظ‘ (Extreme Water Insecurity) کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 15 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہےاور یہ تیزی سے واٹر سٹریسڈ کی درجہ بندی سے نکل کر واٹر سکیئرس درجہ بندی کی جانب بڑھ رہا ...