ٹرمپ ، محمد بن سلمان ملاقات اورپاکستان
کالم : عتیق چوہدری
سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی شہرہ آفاق کتابڈپلومیسی میں لکھا تھا کہ "عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔" تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں جو نئی صف بندی ہورہی ہےوہ دنیا کی معاشی ترجیحات کو دیکھ کر ہی ہورہی ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ کے بدلتے تعلقات اور معاشی و دفاعی ترجیحات سے مشرق وسطی کا نیا منظرنامہ بن رہا ہے ۔ مشرق وسطی میں طاقت کا توازن اب بہت حد تک بدل گیا ہے جس میں سعودی عرب کا اثرو رسوخ کافی بڑھ گیا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ ملاقات جس نےایف 35 طیاروں کی ممکنہ ڈیل اور ایک کھرب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا دروازہ کھولا عالمی میڈیا کے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل مفادات کی نئی ترجیحات کا اعلان ہے ۔دی نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ F-35 ڈیل امریکہ کی پچاس سالہ پالیسی (اسرائیل کی فوجی برتری) میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کو محدود کرنا اور ریاض کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے دور رکھنا ہےوہ امریکہ جو برسوں تک سعودی عرب کو F-35 طیارے دینے سے انکاری رہااچانک پیچھے ہٹ گیا۔ یہ تبدیلی محض ایک دفاعی ڈیل نہیں بلکہ پورے خطے کی سفارت کاری کو نئے قالب میں ڈھالنے والی امریکی سوچ میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی مؤقف میں یہ لچک اس لیے آئی کیونکہ سعودی عرب نے گزشتہ پانچ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو کثیرالقومی بنا دیا ہے۔ چین اور روس سے بڑھتے تعاون اور سب سے اہم پاکستان کے ساتھ سٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ نے واشنگٹن کو یہ باور کرایا کہ ریاض اب مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر رہنے والا نہیں۔ سعودی عرب کو جدید عسکری ساز و سامان سے محروم رکھنا اب اسے حریف طاقتوں کی گود میں دھکیلنے کے مترادف تھا۔پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ تربیت و مشقوں اور ہتھیاروں کی جدت کے نئے دور نے امریکہ کو باورکروایا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی شراکت داری مضبوط نہ کی تو یہ خلا چین اور روس بہت تیزی سے پر کر سکتے ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کو ادراک ہوا کہ سعودی عرب کو جدید عسکری ساز و سامان سے محروم رکھنا اسے حریف طاقتوں کی گود میں دھکیل دے گا۔سعودی عرب کا سب سے بڑا سفارتی ہتھیار اس وقت اس کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت اور وژن 2030ء ہے۔ یو ایس-سعودی انویسٹمنٹ سمٹ میں 600 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے اعلانات نے عالمی سرمایہ کاروں پر واضح کر دیا کہ اگلی بڑی معیشت مشرق وسطیٰ میں ابھر رہی ہے۔ یہ معاشی دباؤ ہی تھا جس نے امریکہ کو اپنے تعلقات از سر نو ترتیب دینے پر مجبور کیا۔ یہی پس منظر ہے جہاں ابراہام معاہدے (Abraham Accords) اور غزہ امن معاہدے کا ذکر لازم ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کو بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کرے۔ اسرائیلی حکومت اور اس کے حامیوں کو امید تھی کہ F-35 ڈیل کے بدلے میں ریاض شاید ابراہام معاہدوں میں شمولیت اختیار کر لے گا۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے واشنگٹن کے شدید دباؤ کے باوجود اپنا مؤقف سختی سے برقرار رکھا۔کسی بھی حتمی امن معاہدے کے لیےخاص طور پر غزہ میں کشیدگی کے بعد، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ سعودی عرب نے امن کی کوششوں میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن فلسطینیوں کے حقوق کو ایک بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا ہے۔ یہ سعودی پوزیشن امریکہ اور اسرائیل دونوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اب واشنگٹن کی مرضی کی تابع خارجہ پالیسی نہیں رکھتا، بلکہ وہ اپنے قومی اور اسلامی مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے F-35 کا سعودی عرب تک پہنچنا باعث تشویش ہے، لیکن امریکہ کی نئی جیو پولیٹیکل ترجیحات اس بار اسرائیلی اعتراضات پر غالب آ گئی ہیں۔ اسرائیل میں بھی بعض حکام نے تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے اسرائیلی فوجی صلاحیت متاثر ہو گی۔ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور یہ خطے میں واحد ملک ہے جس کے پاس ایف 35 طیارے ہیں۔امریکی دفاعی سامان کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق ایک ایف 35 اے طیارے کی قیمت آٹھ کروڑ 25 لاکھ ڈالر ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ترجیحات بدل چکی ہیں اور امریکہ اب خطے میں اپنی پوزیشن کو سعودی عرب کے بغیر برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ اقوام متحدہ نے غزہ امن معاہدے کی قرارداد بھی منظور کرلی ہے جس میں چین اور روس نے ووٹ نہیں دیا مگر ویٹو بھی نہیں کیا ۔ صدر ٹرمپ نے جو یقین دہانی کروائی تھی کہ اسرائیل اس معاہدے پر عملدآمد کرے گا ۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو سفارتی کاوشوں سے قائل کرے کہ پائیدار امن کے لئے فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق الگ ریاست بنائی جائے اور انہیں اپنے فیصلے کرنے کی مکمل آزادی ہو ۔ غزہ میں امن فورس کی تعیناتی بھی ایک اہم ایشو ہے اور اس فورس کا کردار بھی عالمی میڈیا میں زیربحث ہے ۔ اہم یہ بھی ہے کہ پاکستان وہاں اپنی فوج بھیجے گا یا نہیں ؟ اس وسیع اور پیچیدہ منظر نامے میں پاکستان کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب مذہبی، معاشی اور دفاعی اعتبار سے ہمیشہ سے ایک اٹوٹ بندھن کا حامل ملک رہا ہے، مگر مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کی ذمہ داریاں اور حساسیت دوچند ہو گئی ہیں۔ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی نہایت باریک توازن کے ساتھ ترتیب دینا ہوگی: ایک طرف چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات کو برقرار رکھنا، دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا، اور تیسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنانا۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اس کے ساتھ تعلقات میں توازن بھی ضروری ہے ۔ افغانستان کے ساتھ حالیہ تناؤ بھی پاکستان کے لئے اہم ہے جس میں ترکی ، قطر کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے مگر تینوں دور میں کوئی لانگ ٹرم حل نہیں نکل سکا اب ایران اور روس نے بھی ثالثی کی پیشکس کی ہے ۔ مشرقی اور مغربی بارڈر پر پاکستان کو انگیج کرنے کے لئے پاکستان کا اذلی حریف بھارت افغان طالبان کو پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ پاکستان کو اپنے قدم بہت پھونک پھونک کر رکھنے ہونگے ۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ دائرہ ہے جس میں معمولی غلطی بھی سفارتی اور تزویراتی سطح پر بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع بھی میسر ہےکیونکہ سعودی سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے دروازے کھل رہے ہیں، جو مشکل معاشی حالات میں ایک بڑی امید ہیں ۔ جب عالمی طاقتیں نئی صف بندیوں کی تشکیل میں مصروف ہیں، خطہ نئی سٹریٹیجک تبدیلیوں کی زد میں ہے، سعودی عرب نئی جیو پولیٹکل قوت بن کر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر اندرونی خلفشار پر قابو پا کر عالمی سطح پر ہونے والی اہم تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ یہ ایک ایسا نازک مرحلہ ہے جہاں سفارتی مہارت اور داخلی یکجہتی ہی ملک کو نئے عالمی منظر نامے میں ایک مستحکم اور بااثر مقام دلا سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment