پاکستان سنگین آبی بحران کے دہانے پر


کالم : عتیق چوہدری 

عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ بحران صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی، ماحولیاتی اور یہاں تک کہ قومی سلامتی کو بھی براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطرے کی شدت کے باوجودملک کا آبپاشی کا فرسودہ نظام اور غیر مؤثر آبی انتظام اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔عالمی بینک کی حالیہ گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک تشویشناک حقیقت کا بیان ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہے جہاں زراعت میں پانی کا استعمال انتہائی غیر مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی پاکستان کو ’انتہائی آبی عدم تحفظ‘ (Extreme Water Insecurity) کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 15 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہےاور یہ تیزی سے واٹر سٹریسڈ کی درجہ بندی سے نکل کر واٹر سکیئرس درجہ بندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔لیکن عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان شاید واٹر سکیئرس درجہ بندی کی جانب بڑھ نہیں رہا بلکہ پہلے ہی سے اس درجہ بندی میں داخل ہو چکا ہے۔پاکستان میں پانی کی قلت کا ایک بڑا سبب یہاں کا فرسودہ نہری اور آبپاشی کا نظام ہے۔ نہری پانی کی ترسیل کے غیر پختہ اور مٹی کے کھالوں میں ضیاع کی شرح 35 سے 40 فیصد تک ہے۔ یہ ضیاع ہر سال لاکھوں کیوسک قیمتی پانی کو ذخائر سے کھیتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں جذب ہونے یا بھاپ بن کر اُڑ جانے کا سبب بنتا ہے۔ملک میں رائج "فیلڈ ایریگیشن" (Field Flooding) کا طریقہ کار زراعت کے ساتھ ساتھ ملک کی آبی استعداد کے تناظر میں بھی نہایت غیر موزوں ہے۔ زیادہ پانی سے تیار ہونے والی فصلوں جیسے گنا اور چاول کی وسیع پیمانے پر کاشت جس پر کوئی خاص ضابطہ نہیں ہے، پہلے سے کم ہوتے آبی وسائل پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ پنجاب جو ملک کا زرعی مرکز ہے ہر سال 50 ملین ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی نکالتا ہے، جو ملک کی کل سطحی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (13.5 ملین ایکڑ فٹ) سے کہیں زیادہ ہے۔ اس بے ہنگم استعمال کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور کئی علاقوں میں سیم و تھور کا مسئلہ بڑھ رہا ہے۔آبی قلت کا ایک تباہ کن پہلو وہ ہے جسے ہم سیلاب یا مون سون کے موسم میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔پا نی کی قلت ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن پاکستان میں صورتحال خاصی گھمبیر ہے، پائیدار ترقی کے اہداف میں سے ایک ہدف 2030ء تک سب کے لیے پانی اور صاف ستھرے ماحول کی فراہمی یقینی بنانا بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں روزانہ آٹھ ارب افراد کو پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 2050ء تک انسانی آبادی بڑھ کرنو ارب ہو جانے کی توقع ہے۔ پاکستان نہ صرف دنیا کے اُن 17 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان جب وجود میں آیا تھا تو اُس وقت ہر شہری کے لیے پانچ ہزار 600 کیوبک میٹر پانی موجود تھا لیکن اب یہ کم ہو کر صرف ایک ہزار کیوبک میٹر فی شہری رہ گیا ہے یعنی ہر شہری کو اْس وقت کے مقابلے میں آج 20 فیصد سے بھی کم پانی دستیاب ہے جبکہ 2025ء تک یہ صرف 800 کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ پاکستان کی قریباً 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس کی بڑی وجہ آبادی میں بے پناہ اضافہ اور ناقص منصوبہ بندی ہے۔پوری دنیا میں پانی ذخیرہ کرنے کی اوسط شرح 40 فیصد ہے جبکہ پاکستان دریائی پانی کا صرف 10فیصد حصہ ہی ذخیرہ کر پاتا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اب پاکستان میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ واٹر مینجمنٹ ماہرین کے مطابق پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سالانہ تقریباً 30 سے 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوتا ہے جو کہ ہمارے موجودہ بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم کی مجموعی گنجائش کے برابر ہے۔یہ سیلابی اور اضافی مون سون پانی جسے نئے ڈیمز، چھوٹے ذخائر، یا 'ریچارج ویلز' کے ذریعے زمین میں محفوظ کیا جا سکتا ہے، بڑی مقدار میں بغیر کسی استعمال کے سمندر میں بہہ جاتا ہے۔ یہ ضیاع دُہرے نقصان کا باعث ہےایک طرف یہ تباہی لاتا ہے اور دوسری طرف ملک کو مفت میں ملنے والے پانی کے ایک بہت بڑے آبی اثاثے سے محروم کر دیتا ہے۔ شہری علاقوں میں بھی اربن فلڈنگ کے دوران بارش کا قیمتی پانی بغیر کسی واٹر ہارویسٹنگ کے انتظام کے ضائع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے گر رہی ہے۔اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب صرف روایتی سوچ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جامع اور ہنگامی نوعیت کی آبی پالیسی مرتب کرنا ناگزیر ہے جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:زرعی شعبے میں پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے ڈرپ ایریگیشن (Drip Irrigation) اور سپرنکلر ایریگیشن (Sprinkler Irrigation) جیسے جدید طریقوں کو ہنگامی بنیادوں پر فروغ دینا ہوگا۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق ڈرپ ایریگیشن کے استعمال سے پانی، کھاد، وقت اور مزدوری کی 50 فیصد تک بچت ہوتی ہے اور پیداوار میں بھی 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ پنجاب حکومت نے ان نظاموں کی تنصیب پر کسانوں کو 50 سے 60 فیصد تک سبسڈی فراہم کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں، لیکن ان منصوبوں کی رفتار اور پیمانے کو کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے تربیت اور مالی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنی سالانہ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم از کم 120 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیےجبکہ پاکستان کے پاس صرف 30 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے نئے بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر چھوٹے آبی ذخائر ، چیک ڈیمز اور واٹر ہارویسٹنگ کے ڈھانچے تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اقدامات سیلابی پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔پاکستان گلیشئیرز کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی مطلوبہ صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ ایک کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع کر دیتا ہے۔ پانی کے ناقص ترسیلی نظام، آبی ذخائر کی دیکھ بھال میں غفلت، اور صوبائی سطح پر ہم آہنگ پالیسی کا فقدان اس بحران کو بڑھا رہے ہیں۔مضبوط قومی آبی پالیسی کا نفاذ، صنعتی اور شہری پانی کی ری سائیکلنگ، اور عوامی سطح پر آبی تحفظ کا شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فرسودہ آبپاشی نظام اور آبی انتظام کی ناکامی صرف آج کا نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم آبی وسائل کے ضیاع کو قومی جرم سمجھ کر جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط ارادے کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ پانی کی حفاظت اور احتیاطی استعمال ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟