Posts

نیویارک میں تبدیلی ، پاکستان میں کیسے آئے گی ؟

Image
  کالم : عتیق چوہدری ​امریکی سرمائے دارانہ نظام کے قانونی اور آئینی الیکٹورل ڈھانچے میں ایک نوجوان مسلمان سوشلسٹ زہران ممدانی کا نیویارک سٹی میئر کے عہدے پر براجمان ہونا بظاہر ایک معمولی انتخابی فتح ہے، مگر اس کے مضمرات امریکی سیاست، معیشت اور سماجی رجحانات کی گہرائیوں تک جاتے ہیں۔ 34 سالہ ممدانی کی یہ کامیابی محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ روایتی سوچ اور امریکی سیاسی ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کا اشارہ ہے۔ 100 سال سے بھی زائد عرصے میں   ممدانی شہر کے سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص ہوں گے۔عالمی میڈیا نے اس جیت کو فوری اور غیر معمولی کوریج دی جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ دی گارڈین نے اس جیت کو "ایک خود ساختہ ہونے والی اجتماعی ہذیانی کیفیت" قرار دیا اور کہا کہ ممدانی کی کامیابی نے اسلاموفوبیا کی بدصورتی کو بے نقاب کیا ہے۔ وہیں نیو یارک ٹائمز کے حوالے سے بروکنگز نے لکھا کہ ممدانی نے "کچھ ایسا کر دکھایا جو شہر نے پہلے نہیں دیکھا تھا: ایک جیتنے والی مہم جو مہینوں میں کھڑی کی گئی"۔ یہ جیت کئی پہلوؤں سے نظام ک...

Beyond Tariffs: The US-China Race for AI Supremacy

Image
  Column by Atiq Chaudhry A critical meeting between US President Donald Trump and Chinese President Xi Jinping on the sidelines of the Asia-Pacific Economic Cooperation (APEC) Summit in Busan, South Korea, has injected a temporary dose of optimism into the volatile global landscape. This face-to-face encounter the first in six years was marked by a warmth and conciliatory tone designed to soften the edges of a deepening "superpower rivalry." Yet, beneath the veneer of diplomatic cordiality lies an escalating commercial and technological war, the new epicenter of which is Artificial Intelligence (AI) the 21st century's most potent strategic weapon. In Busan, President Trump’s characterization of Xi Jinping as an “old friend,” a “distinguished leader,” and a “great leader of a great country,” coupled with the Chinese President's praise for the US role in the Gaza ceasefire, offered a fleeting sense of relief. As President Xi Jinping noted, "Beijing and Washington ...

صحافیوں کی زندگی اور آزادی صحافت خطرے میں!

Image
  کالم : عتیق چوہدری  2 نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن ایک بار پھر منایا گیا مگر پاکستان میں یہ دن محض رسمی بیانات تک محدود رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دن آزادیِ صحافت کے زوال، احتساب کے فقدان اور بڑھتے ہوئے خوف کے سائے میں جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کے لرزنے کی علامت بن چکا ہے۔ جبری خاموشی، سنسرشپ، اور قانون کے بےجا استعمال نے ملک میں آزاد صحافت کو ایسے نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں سچ بولنا محض جرات نہیں بلکہ زندگی کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہو گیا ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس ان تلخ حقائق کی واضح تصدیق کرتی ہیں اور پاکستان میں آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ملک میں آزادیِ اظہار کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرزکے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں سے 158ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے  152ویں  درجے سے ایک نمایاں تنزلی ہے۔ یہ زوال محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور ص...

سوڈان میں حقیقی نسل کشی: سونے اور خون کا کھیل

Image
سوڈان کی خانہ جنگی جو 15 اپریل 2023 کو سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کے درمیان طاقت کی کشمکش کے نتیجے میں بھڑکی، آج ایک خوفناک موڑ پر آ پہنچی ہے۔ یہ محض داخلی کشمکش نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی بین الاقوامی پراکسی جنگ کا اکھاڑہ بن چکی ہے جو دارفور کے شہر الفاشر میں ’حقیقی نسل کشی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل رپورٹنگ کے باوجود، دنیا کی بے حسی نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف دو جنرلوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ بین الاقوامی طاقتوں کی پراکسی جنگ، علاقائی مفادات اور انسانی المیے کا ایک ایسا مرکب بن چکی ہے جس نے پورے ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔سوڈان کا حالیہ بحران مسلم اکثریتی دنیا میں خانہ جنگیوں کی ایک طویل اور المناک تاریخ کا حصہ ہے۔ 2011 کے بعد سے، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی مسلمان ملکوں میں وسیع پیمانے پر مسلح تنازعات اور ریاستی ناکامی کی مثالیں سامنے آئی ہیں، جن میں شام، یمن، لیبیا اور عراق نمایاں ہیں۔ یہ ...

عالمی بالادستی کی نئی جنگ: تجارت سے اے آئی (AI) ہتھیاروں تک!

Image
  کالم : عتیق چوہدری جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی اہم ملاقات نے عالمی منظر نامے پر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ چھ سال بعد ہونے والی اس بالمشافہ نشست میں جس طرح گرمجوشی اور مصالحتی لہجہ اپنایا گیا وہ درحقیقت ایک گہری ہوتی ہوئی "سپر پاور کی لڑائی" پر نرمی کی چادر ڈالنے کی کوشش ہے۔ تاہم سطحی سفارت کاری کے پردے کے پیچھے ایک ایسی تجارتی اور تیکنیکی جنگ جاری ہے جو اس صدی کے نئے جنگی ہتھیار یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کے محور پر گھومتی ہے۔بوسان میں صدر ٹرمپ کا شی جن پنگ کو "پرانا دوست"، "باوقار رہنما" اور "عظیم ملک کا عظیم لیڈر" قرار دینا ساتھ ہی چینی صدر کا غزہ جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہنایہ سب ایک وقتی راحت کا احساس دلاتے ہیں۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ "بیجنگ اور واشنگٹن دو بڑی معیشتیں ہیں جن کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات ہونا معمول کی بات ہے" اور ہمیں "شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے"۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ا...

کسان کا نوحہ: گندم اور زراعت کی بدحالی

Image
 کالم : عتیق چوہدری پاکستان جو دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام اور زرخیز زمینوں کا حامل ہے، آج گندم کے بحران اور زراعت کی سست شرح نمو کے باعث شدید اقتصادی  چیلنجزکا شکار ہے۔ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اس شعبے کی بدحالی محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے کہ آخر کیوں 24 فیصد جی ڈی پی اور 42 فیصد سے زائد افرادی قوت کا بوجھ اٹھانے والا یہ شعبہ ٹوٹ رہا ہے؟ کسان کی مشکلات محض پیداواری لاگت یا کم قیمت تک محدود نہیں، بلکہ یہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط، موسمیاتی تباہی، اور حکومتی ناقص حکمت عملی کا ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ ہے۔ملکی معیشت کی ترقی کا انحصار براہ راست زراعت پر ہے، مگر اداره شماریات پاکستان اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ پی بی ایس کے مطابق، مالی سال 2025 کے لیے زرعی شعبے کی اپ ڈیٹ شدہ شرح نمو محض 1.51 فیصد رہی۔ یہ شرح قومی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے اور بنیادی طور پر گندم، کپاس اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں منفی 13.12 فیصد کی تشویشناک کارکردگی کی عکا...

طالبان : دہلی کی پراکسی، خطے کا امن خطرے میں!

Image
  کالم : عتیق چوہدری  افغانستان اور پاکستان جغرافیائی قربت اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے باوجود ہمیشہ سے ہی ایک پیچیدہ اور استعمالی (Transactional) تعلقات میں الجھے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہو ئی شر انگیزیاں ، سرحدی جھڑپوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہیں۔افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے باقاعدہ تسلیم نہ کیے جانے اور عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے افغان حکومت معاشی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تنہائی افغانستان کی قیادت کو اندرونی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مزید مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسی تنہائی اور معاشی مجبوری کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرم قوتوں کو پناہ یا سرپرستی ملنا پاکستان کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ڈیورنڈ لائن کا تنازع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بنیادی اور دیرینہ رکاوٹ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹھوس مؤق...