نیویارک میں تبدیلی ، پاکستان میں کیسے آئے گی ؟

 
کالم : عتیق چوہدری
​امریکی سرمائے دارانہ نظام کے قانونی اور آئینی الیکٹورل ڈھانچے میں ایک نوجوان مسلمان سوشلسٹ زہران ممدانی کا نیویارک سٹی میئر کے عہدے پر براجمان ہونا بظاہر ایک معمولی انتخابی فتح ہے، مگر اس کے مضمرات امریکی سیاست، معیشت اور سماجی رجحانات کی گہرائیوں تک جاتے ہیں۔ 34 سالہ ممدانی کی یہ کامیابی محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ روایتی سوچ اور امریکی سیاسی ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کا اشارہ ہے۔ 100 سال سے بھی زائد عرصے میں   ممدانی شہر کے سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص ہوں گے۔عالمی میڈیا نے اس جیت کو فوری اور غیر معمولی کوریج دی جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ دی گارڈین نے اس جیت کو "ایک خود ساختہ ہونے والی اجتماعی ہذیانی کیفیت" قرار دیا اور کہا کہ ممدانی کی کامیابی نے اسلاموفوبیا کی بدصورتی کو بے نقاب کیا ہے۔ وہیں نیو یارک ٹائمز کے حوالے سے بروکنگز نے لکھا کہ ممدانی نے "کچھ ایسا کر دکھایا جو شہر نے پہلے نہیں دیکھا تھا: ایک جیتنے والی مہم جو مہینوں میں کھڑی کی گئی"۔ یہ جیت کئی پہلوؤں سے نظام کے خلاف ایک بلند آواز ہے۔ ​ ایک ایسے ملک میں جہاں اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے اثرات اب بھی موجود ہیں، ایک نوجوان مسلمان سوشلسٹ کی یہ فتح موروثی سیاست اور نسل پرستانہ نظریات پر ایک کاری ضرب ہے۔ان کی مہم کی غیر معمولی مقبولیت کی کلید جنریشن زی (Generation Z) اور یوتھ ووٹ کی اہمیت ہے۔ نوجوان ووٹرز کا یہ طبقہ جو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ متحرک ہے، اس نے روایتی سیاست دانوں کی دھواں دار تقاریر کے بجائےاپنے بنیادی مسائل (کرائے میں کمی، صحت کی سہولیات، ماحولیاتی انصاف) کے لیے آواز بلند کرنے والے سوشلسٹ نظریات کی طرف رجحان ظاہر کیا ہے۔ یہ نئی نسل اب طاقت کے ایوانوں سے باہر پیدا ہوئی ہے اور اسے نئی شکل دینے کا حوصلہ رکھتی ہےاور یہی وہ عنصر ہے جو صدیوں سے قائم سرمائے دارانہ نظام کے خلاف نظام کے خلاف آواز کو تقویت دے رہا ہے۔ سی بی ایس نیوز  نے اس کامیابی پر برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کے تہنیتی پیغامات کو کوریج دی، جنہوں نے اس جیت کو سیاسی، اقتصادی اور میڈیا کے "اسٹیبلشمنٹ" کے خلاف قرار دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت مخالفت اور طاقتور ارب پتیوں کی کوششوں کی ناکامی بھی اس کامیابی کا ایک نمایاں عنصر ہے۔ ڈیل نیوز ایجپٹ (Daily News Egypt) نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ممدانی کو "جنونی کمیونسٹ" قرار دیا، جبکہ ریپبلکن کلب نے ان کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، جو روایتی سیاست دانوں کی گھبراہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ عوامی جذبات کو اب محض روایتی حربوں سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
​زہران کی کامیابی کو بلاشبہ ایک سوشلسٹ انقلاب کی نوید کہا جا رہا ہے، لیکن حقائق کا تجزیہ ایک تناقض کو جنم دیتا ہے۔ سرمائے داری کا بنیادی محور سرمایہ ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف منافع ہے۔ اس کے برعکس سوشلزم کا محور انسانی محنت اور انسانی ضروریات کی تکمیل ہے۔
​ممدانی کا تعلق DSA (Democratic Socialists of America) سے ہے جو کہ ایک این جی اوہے۔ یہ تنظیم اپنے نمائندگان کو اسمبلی تک پہنچانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کا پلیٹ فارم استعمال کرتی ہے۔ یہیں سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ نظام کے خلاف آواز ہے یا نظام کے اندر ایک ایڈجسٹمنٹ؟ DSA نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر کسی بھی جامع عملی سماجی انقلاب کو "dumped in dustbin" قرار دے کر ریاستی سرمائے دارانہ نظام سے مکمل اختلاف سے دوری رکھی ہے۔زہران نے خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دیا ہے۔ یہ طرزِ عمل دراصل سرمائے دارانہ نظام میں رہتے ہوئے اس کے الیکٹورل سسٹم کے ذریعے عہدوں پر آکر ملک کے اصل مالکان Capitalists اور کارپوریشنزسے مزدوروں کے حقوق کے متعلق بارگینگ کا نام ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کچھ سماجی سہولیات فراہم کر کے عوام کو بدتر حالات کے جواب میں نظام کے خاتمے کے عملی انقلاب سے دور رکھنا ہے۔ برنی سینڈرز نے بھی اس عمل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ممدانی کی جیت "پیپلز پاور" کے بارے میں ہے، لیکن کیا یہ "پیپلز پاور" اس نظام کو توڑ پائے گی جس نے اسے پیدا کیا ہے؟امریکی نظام میں تمام تر الیکشن فنانسنگ پر کھڑی ہے۔ کسی بھی عہدے کے لیے درکار لاکھوں ڈالرز کی رقم بڑی کارپوریشنز اور مالدار لوگ اپنے حصے ڈال کر ممکن بناتی ہے۔ یہ جمہوریت نہیں بلکہ سرمائے دارانہ جمہوریت ہے۔زہران کی جیت بھی محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ڈی اس اے کے 90 ہزار ممبرز کی فنڈنگ سے ممکن ہوئی ہے۔ یہ فنڈنگ بلاشبہ ایک متبادل راستہ ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان فنڈز میں کتنے فیصد حصہ عام مزدور یا مڈل کلاس کا ہے اور کتنا نیویارک کے سب سے زیادہ دولت مند طبقات سے تعلق رکھتا ہے۔زہران کے نعروں جیسے امیروں پر 2فیصدٹیکس کو عملی روپ دینے میں نظام کے خلاف آواز کو شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ موجودہ نیویارک سٹی گورنر کیتھی ہوچل نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ زہران کی کسی ایسی سکیم کی حمایت کرکے نیویارک کے دولت مند لوگوں اور کارپوریشنز کو شہر چھوڑ جانے کا قدم اٹھانے پر نہیں لائیں گی۔نیویارک سٹی عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مرکزی 500 ملٹی نیشنل کمپنیوں کا گڑھ اور امریکہ کا سرمائے دارانہ دماغ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک integrated قانونی، معاشی، سیاسی ڈھانچے میں عوامی پالیسیاں عمل میں آ سکیں۔ زہران ممدانی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میرے دوستو، ہم نے ایک سیاسی خاندان کو شکست دے دی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ آج کی جیت ان ایک لاکھ سے زائد رضاکاروں کی جیت ہے ’جنھوں نے اس مہم کو ایک نہ رکنے والی قوت میں تبدیل کر دیا۔‘عوام نے ثابت کردیا کہ طاقت ان کے ہاتھ میں ہے اور نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔الیکشن نتائج کو ٹرمپ حکومت کی کارکردگی سے بھی جوڑا جارہاہے ۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک سروے میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت  جنوری میں دوسری مدت صدارت کے آغاز پر 47 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 37 فیصد پر آ گئی ہے۔
پاکستان میں بھی سیاسی منظر نامہ اسی موروثی سیاست اور روایتی سوچ کے گرد گھومتا ہے، جہاں پارٹیاں خاندانوں اور جاگیرداروں کی ملکیت ہیں۔ پاکستانی یوتھ کو ممدانی کی جیت سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ سرمائے دارانہ نظام ضرورت کے وقت ایسے لوگوں کو اسٹیج پر لاتا ہے تاکہ عوامی مایوسی کو جذباتی بنیادوں پر استعمال کر سکے۔ جذباتی دور ختم ہوتا ہے تو ایک اور نیا چہرہ آ جاتا ہے۔ نظام کی تبدیلی اور روایتی سوچ کو چیلنج کرنے کے لیے پاکستانی یوتھ کو کسی منظم جدوجہد اور جماعت کی ضرورت ہے۔ ایسی جماعت جو کسی خاندان کی موروثی سیاست کے بجائے اصولوں اور انقلابی پروگرام پر کھڑی ہو۔ یہ جماعت نظام کے لانچ کردہ طاقتور گروپ کی جگہ اس کے مکمل خاتمے اور تبدیلی کے لیے نوجوانوں کو تیار کرے اور ایک بوسیدہ عمارت گرانے کے بعد نئی عمارت کے قیام کا پورا پورا نقشہ رکھتی ہو۔ اگر آپ جنریشن زی ہیں اور اپنے مستقبل کو سرمائے دارانہ جمہوریت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتے تو انفرادی کامیابیوں پر خوش ہونے کے بجائےنظام کو بدلنے کے لیے ایک منظم فکری اور عملی جماعت  کے طور پر منظم کریں ۔ کیونکہ حقیقی عوامی سوشلسٹ انقلاب ایک پرزے کی تبدیلی سے نہیں، بلکہ پورے ڈھانچے کو بدلنے سے آئے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟