طالبان : دہلی کی پراکسی، خطے کا امن خطرے میں!

کالم : عتیق چوہدری
افغانستان اور پاکستان جغرافیائی قربت اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے باوجود ہمیشہ سے ہی ایک پیچیدہ اور استعمالی (Transactional) تعلقات میں الجھے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہو ئی شر انگیزیاں ، سرحدی جھڑپوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہیں۔افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے باقاعدہ تسلیم نہ کیے جانے اور عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے افغان حکومت معاشی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تنہائی افغانستان کی قیادت کو اندرونی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مزید مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسی تنہائی اور معاشی مجبوری کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرم قوتوں کو پناہ یا سرپرستی ملنا پاکستان کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ڈیورنڈ لائن کا تنازع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بنیادی اور دیرینہ رکاوٹ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹھوس مؤقف کو قانونی اور تاریخی حوالوں سے تقویت ملتی ہے۔ڈیورنڈ لائن کے قانونی اور تاریخی پہلوؤں پر پاکستان کے مؤقف کی مضبوطی کے لیے ڈاکٹر لطف الرحمٰن کی کتاب "Revisiting the Durand Line: Historical and Legal Perspectives" اہم ہے۔ یہ کتاب تاریخی دستاویزات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ 1893 کا معاہدہ خود امیر عبدالرحمٰن خان نے کیا تھا اور بعد کے معاہدوں نے اس کی توثیق کی۔ یہ بات بین الاقوامی ریاستی قوانین کی رو سے پاکستان کے مؤقف کو مستحکم کرتی ہے کہ نوآبادیاتی دور میں طے شدہ یہ سرحد پاکستان کو بطور وراثت ملی ہے اور موجودہ افغان قیادت کا اسے تسلیم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں سے روگردانی ہے۔افغان طالبان کی وہ غیر لچک دار پالیسی جو کالعدم TTP کو پناہ دے رہی ہے، یہ تشویش پیدا کرتی ہے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی قوتوں خاص طور پر بھارت کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جولائی 2024 کو رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ تسلیم نہیں کرتے اور ان کے آپسی تعلقات انتہائی قریبی ہیں اور افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی امداد کا قرض ہے۔بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیے گئے، اس گروپ کے افغانستان میں چھ سے ساڑھے چھ ہزار جنگجو موجود ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے ارکان جن کے افغان طالبان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، وہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔ افغان وزیرخارجہ کا دورہ بھارت کے موقع پر متنازعہ بیان نے صورتحال کو مزید کشیدہ کیا ۔استنبول میں بھی مذاکرات کے کئی راؤنڈ ہوچکے ہیں جس میں دوست ممالک نے اہم کردار ادا کیا مگر افغان طالبان کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ رویہ مذاکرات کو بار بار سبوتاژ کررہا ہے ۔ پاکستان کا یہ واضح مؤقف رہا ہےافغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشتگرد کاروائیوں کے لئے استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور دوسری اہم بات اگر بھارتی سرپرستی میں افغانستان دریائے کابل( جسے دریائے کنڑ) پر آبی منصوبوں کے ذریعے پانی کی فراہمی متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔ بھارت پہلے ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے، اور اب افغانستان میں ایسے منصوبوں کی تعمیر کی کوششیں پاکستان کے مغربی آبی راستے پر اثر انداز ہونے کی خطرناک چال ہے۔ افغان قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے روایتی اسلامی ہمسایہ کے خلاف بھارتی ایما پر کام کرنا پورے خطے کے امن اور استحکام کو تباہ کر سکتا ہے۔ حمع بانی اور نوشین واسی کی مشترکہ تدوین کردہ کتاب "Pakistan-Afghanistan Relations: Pitfalls and the Way Forward" ان تعلقات کی تمام مشکل راہوں پر روشنی ڈالتی ہے۔یہ کتاب اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں استحکام کی حمایت کی ہے، تاہم دونوں پڑوسیوں کے درمیان ایک دیرینہ "اعتماد کا خسارہ" حائل رہا ہے۔ اس ٹرسٹ ڈیفیسٹ کی بنیادی وجہ پراکسی سیاست اور علاقائی دشمن قوتوں کی طرف سے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہے۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام اور اقتصادی انضمام جیسے مشترکہ مفادات کے باوجود، یہ تاریخی عدم اعتماد باہمی تعاون کی کوششوں کو ناکام بناتا رہا ہے۔اس تناظر میں، افغان قیادت کا TTP جیسے کالعدم گروہ کو پاکستانی سرحد سے دور کسی دوسری جگہ بسانے کی پیشکش کرنا افغان طالبان کی طرف سے دہشت گردوں کی مکمل پشت پناہی اور سرپرستی کا واضح ثبوت ہے۔
افغان طالبان کی موجودہ قیادت نہ صرف بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے بلکہ داخلی طور پر بھی مختلف گروپس میں منقسم دکھائی دیتی ہے، جن میں طاقتور حلقے جیسے قندھاری دھڑا (سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے گرد)، حقانی نیٹ ورک، مزار شریف گروپ، اور کوئٹہ شوریٰ کے سابقہ ارکان کا اثر شامل ہے۔ ان گروہوں کے درمیان پالیسی سازی میں اختلاف اور رسہ کشی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ کابل میں ایک مستحکم اور متفقہ حکومت موجود نہیں ہے۔ ان داخلی اختلافات کا نتیجہ ان انتہا پسندانہ فیصلوں کی صورت میں سامنے آیا ہے جن پر بین الاقوامی برادری کو شدید تشویش ہے، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کے حقوق کی پامالی، اور ایک شمولیتی (Inclusive) حکومت کی تشکیل میں ناکامی۔ طالبان قیادت کے یہ غلط اقدامات نہ صرف افغان عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کی بین الاقوامی تنہائی کو مزید گہرا کر رہے ہیں اور پاکستان سمیت خطے کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ ۔
افغانستان کی موجودہ بین الاقوامی تنہائی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، پاکستان کا یہ موقف مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ افغان قیادت کو اپنی خارجہ پالیسی کے نتائج پر گہری نظر ڈالنی چاہیے۔ مارون جی وائن باؤم (Marvin G. Weinbaum) جیسے بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطالعے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان کے پڑوسیوں کی حرکات ہمیشہ اس کے داخلی معاملات پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔پاکستان کا مطالبہ غیر مبہم اور اصولی ہے کہ افغان طالبان TTP کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں، ان کے ٹھکانوں کو ختم کریں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں پر پورا اتریں۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اگر سرحد پار حملے جاری رہے تو پاکستان نے واضح انداز میں خبردار کیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں وہ "کھلی جنگ" کا آپشن استعمال کر سکتا ہے۔افغان قیادت کو چاہیے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرے اور غیر سنجیدگی اور خطے کا امن تباہ کرنے جیسے اقدامات و رویوں کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ موجودہ بین الاقوامی تنہائی و پسماندگی پاکستان کی مدد کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔ صرف اور صرف دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر زور دینے سے ہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار اور مستحکم تعلقات کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
Comments
Post a Comment