صحافیوں کی زندگی اور آزادی صحافت خطرے میں!

 


کالم : عتیق چوہدری 

2 نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن ایک بار پھر منایا گیا مگر پاکستان میں یہ دن محض رسمی بیانات تک محدود رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دن آزادیِ صحافت کے زوال، احتساب کے فقدان اور بڑھتے ہوئے خوف کے سائے میں جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کے لرزنے کی علامت بن چکا ہے۔ جبری خاموشی، سنسرشپ، اور قانون کے بےجا استعمال نے ملک میں آزاد صحافت کو ایسے نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں سچ بولنا محض جرات نہیں بلکہ زندگی کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہو گیا ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس ان تلخ حقائق کی واضح تصدیق کرتی ہیں اور پاکستان میں آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ملک میں آزادیِ اظہار کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرزکے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں سے 158ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے  152ویں  درجے سے ایک نمایاں تنزلی ہے۔ یہ زوال محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ خطرات، دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔اس بحران کا سب سے سنگین پہلو صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے اور ان جرائم میں سزا سے استثنیٰ کی جڑ پکڑتی ہوئی خطرناک ثقافت ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ امپیونٹی رپورٹ 2025 کے اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز پر حملوں میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ کل 142 کیسز دستاویزی طور پر رپورٹ ہوئے۔ پاکستان میں 2000ء سے 2022ء کے درمیان 150 صحافیوں کے قتل ریکارڈ کیے گئے،مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان میں سے صرف دو مقدمات میں مجرموں کو سزا دی جا سکی۔ یہ اعداد و شمار کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے ان نتائج کی تصدیق کرتے ہیں جو پاکستان کو دنیا کے صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شمار کرتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متعدد بار اس امر پر زور دیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ نہ صرف متاثرین کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے،بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ اور جمہوریت کے لیے ایک براہِ راست خطرہ بھی ہے۔ یہ بے خوفی مزید حملوں کو فروغ دیتی ہے اورصحافی خوف کے زیرِ اثر خود سنسرشپ پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں صحافت کو درپیش چیلنجز صرف جسمانی حملوں تک محدود نہیں ہیں سنسر شپ اور منظم ڈس انفارمیشن نے میڈیا کی سالمیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ سینئر صحافی کا گمنام اعتراف اس تلخ حقیقت کا نچوڑ ہے،'ایسی بے بنیاد خبریں ’اُدھر‘ سے آتی ہیں اور تمام چینلز ’اُن‘ کے کہنے پر چلاتے بھی ہیں۔ یہ صورتحال تین بڑے خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔اول سچ بولنے کی قیمت اپنی حفاظت کو خطرے میں ڈالنا ہےجس کے سبب بہت سے صحافی اپنا نام ظاہر کرنے یا حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔دوم پروپیگنڈا بعض اوقات  ڈس انفارمیشن کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوامی بیانیے کو کنٹرول کیا جا سکے اور اہم معاملات سے توجہ ہٹائی جا سکے۔سوم ،اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ’حب الوطنی‘ کا لیبل ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہےجس سے تنقیدی اور آزادانہ صحافت کی گنجائش مزید سکڑ جاتی ہے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس  نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر اعلانیہ سنسر شپ پر تشویش کا اظہار کیا ہے،جو معاشی دباؤ (جبری برطرفیاں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی) کے ذریعے بھی مسلط کی جاتی ہے۔. جمہوریت کے لیے آزاد صحافت کیوں ناگزیر ہے؟جمہوریت ایک شفاف اور جوابدہ نظام حکومت کا نام ہے اور صحافت اس نظام کے لیے آکسیجن کا کردار ادا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے آفاقی منشور برائے انسانی حقوق کا آرٹیکل 19 ہر شخص کو معلومات اور خیالات کی تلاش، وصولی اور ترسیل کا حق دیتا ہے۔صحافت جمہوریت میں "چوتھے ستون" کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حکومتوں، طاقتور گروہوں اور اداروں کو ان کے اعمال پر جوابدہ ٹھہراتی ہے۔ فریڈم ہاؤس جیسی تنظیمیں واضح کرتی ہیں کہ آزاد میڈیا کے بغیر، بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور ناانصافی بلا روک ٹوک جاری رہتی ہے جس سے جمہوری ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ایک آزاد میڈیا مختلف نقطہ نظر اور حقائق کو عوام تک پہنچا کر انہیں انتخابات اور پالیسی سازی کے عمل میں باخبر ہو کر شرکت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب شہری درست معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں، تب ہی جمہوریت کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ یونیسکو  اس بات پر زور دیتا ہے کہ آزاد صحافت ایک ایسے ماحول کو یقینی بناتی ہے جہاں عوامی مکالمہ صحت مند بنیادوں پر استوار ہو۔قوانین کا غلط استعمال ایک اور بڑا چیلنج ہے جو صحافیوں کو قانونی طور پر ہراساں کرتا ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت کے پہلے سال کے دوران  30 صحافیوں کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت 36 مقدمات درج کیے گئے جن میں سے 22 براہ راست پیکا کے تحت تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) اور ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے نشاندہی کی ہے کہ پیکا جیسے سخت قوانین جن میں حالیہ سخت ترامیم بھی شامل ہیں کو آزادیٔ اظہار کو دبانے، تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے اور انتقامی کارروائیوں کے لیے ایک آہنی شکنجے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ قانونی ہتھکنڈے جسمانی حملوں کی طرح ہی خطرناک ہیں کیونکہ یہ صحافیوں کو طویل قانونی جنگوں اور مالی بوجھ میں الجھا کر ان کی ہمت کو توڑ دیتے ہیں۔صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کے خاتمے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے پاکستان کو فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔صحافی اور میڈیا پروفیشنلز تحفظ ایکٹ 2021 سمیت تمام قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ صحافیوں پر حملوں، ہراسانی یا قتل کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ Impunuity کا مکمل خاتمہ ہو۔پیکا اور دیگر ایسے قوانین میں موجود ان شقوں کو ہٹایا جائے جو سیاسی انتقام یا سنسر شپ کے لیے استعمال ہوتی ہیں تاکہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کا قانونی راستہ بند ہو سکے ۔ ڈس انفارمیشن ا ور فیک نیوز  پھیلانے کا عمل بند کیا جائے اور میڈیا کو سنسر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی غیر اعلانیہ پالیسیوں کو ختم کیا جائے۔عالمی اداروں سے تعاون حکومت بین الاقوامی برادری، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔۔ایک مضبوط، شفاف اور جمہوری پاکستان کی ضمانت ایک آزاد، باخبر اور ذمہ دار صحافت ہے۔ جب تک صحافی بے خوفی سے رپورٹنگ نہیں کر پائیں گے، ملک میں نہ تو جمہوریت مکمل ہو گی اور نہ ہی عوام کو سچائی تک رسائی ملے گی۔ آزادی صحافت کا تقاضا ہے کہ دعوؤں کے بجائے، اب عمل کیا جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟