عالمی بالادستی کی نئی جنگ: تجارت سے اے آئی (AI) ہتھیاروں تک!

 


کالم : عتیق چوہدری

جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی اہم ملاقات نے عالمی منظر نامے پر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ چھ سال بعد ہونے والی اس بالمشافہ نشست میں جس طرح گرمجوشی اور مصالحتی لہجہ اپنایا گیا وہ درحقیقت ایک گہری ہوتی ہوئی "سپر پاور کی لڑائی" پر نرمی کی چادر ڈالنے کی کوشش ہے۔ تاہم سطحی سفارت کاری کے پردے کے پیچھے ایک ایسی تجارتی اور تیکنیکی جنگ جاری ہے جو اس صدی کے نئے جنگی ہتھیار یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کے محور پر گھومتی ہے۔بوسان میں صدر ٹرمپ کا شی جن پنگ کو "پرانا دوست"، "باوقار رہنما" اور "عظیم ملک کا عظیم لیڈر" قرار دینا ساتھ ہی چینی صدر کا غزہ جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہنایہ سب ایک وقتی راحت کا احساس دلاتے ہیں۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ "بیجنگ اور واشنگٹن دو بڑی معیشتیں ہیں جن کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات ہونا معمول کی بات ہے" اور ہمیں "شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے"۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک نے ایک سال کی تجارتی جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا ہے، جس میں چین نے نایاب معدنیات (Rare Earths) کی برآمدی پابندیاں موخر کیں اور امریکا نے بعض چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت عالمی اسٹاک مارکیٹوں کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ہے جس سے عالمی معاشی تناؤ میں فوری کمی آنے کی توقع ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان تزویراتی تناؤ کا براہ راست اثر عالمی معیشت، سیاست اور اداروں پر پڑ رہا ہے، جس سے دنیا غیر اعلانیہ طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ اقتصادی محاذ پر، کمپنیاں 'چائنا پلس ون' یا 'ڈی-رسکنگ' کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چینزتیزی سے بدل رہی ہیں اور سرمایہ کاری کا رُخ جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر خطوں کی جانب ہو رہا ہے۔ سیاسی طور پر اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) جیسے ادارے شدید دباؤ میں ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی یا اسلحے کی دوڑ جیسے مشترکہ عالمی مسائل پر اتفاقِ رائے مشکل ہو گیا ہے، جس سے عالمی تعاون کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اسی تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے توازن برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف CPEC اور دفاعی تعاون کی بدولت چین پاکستان کی اقتصادی خوشحالی اور سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے، تو دوسری طرف امریکا عسکری امداد، آئی ایم ایف تک رسائی اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کی پالیسی "توازن اور غیر جانبداری" پر قائم ہے، تاکہ وہ کسی بلاک کا حصہ بنے بغیر دونوں سپر پاورز کے ساتھ فائدہ مند تعلقات کو فروغ دے سکے۔ تاہم جیسے جیسے اے آئی کی دوڑ میں دنیا تقسیم ہو رہی ہے، پاکستان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر دانشمندانہ حکمت عملی یہی ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اسٹریٹجک شراکت داری قائم رکھے اور علاقائی رابطوں (Regional Connectivity) پر توجہ دے تاکہ کسی ایک بلاک پر زیادہ انحصار نہ کرنا پڑے۔موجودہ حالات میں چین نے پاکستان کو ہر محاذپر سپورٹ کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ پاکستانی قیادت کی ملاقات اور ٹرمپ کا وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اہم مواقع پر تعریف کرنا اور بار بار مودی کو اس کے طیارے گرنے کا بتانا بھی آنے والے دور میں پاک امریکہ اچھے تعلقات کی شنید ہے ۔مگر پاکستان کو قدم پھونک پھونک کررکھنے ہونگے تا کہ ہم علاقائی اور بین الاقوامی محاذوں پر اپنے مفاد کو مقدم رکھ سکیں وہ تعلقات عرب ممالک کے ساتھ ہو یا ایران ،روس اور یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کو اپنا ریاستی مفاد عزیز رکھنا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکا،چین تجارتی جنگ نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کی ہے۔ امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹیرف میں 25 فیصد تک کا اضافہ اور چین کی طرف سے جوابی ٹیرف نے عالمی سپلائی چینز کو درہم برہم کر دیا۔یہ جنگ صرف تجارتی خسارے سے نمٹنے کی نہیں تھی؛ یہ ٹیکنالوجی کی برتری حاصل کرنے کی جنگ تھی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن (Graham Allison) کی مشہور کتاب "Destined for War: Can America and China Escape Thucydides's Trap?" ایک اہم نظریہ پیش کرتی ہے۔ ایلیسن کے مطابق، جب کوئی نئی طاقت چین ابھرتی ہے اور موجودہ سپر پاورامریکا کو چیلنج کرتی ہے، تو بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کا تجزیہ ہے کہ موجودہ کشیدگی ایک روایتی تجارتی چپقلش سے کہیں زیادہ ہے، یہ ایک 'تھوسیڈائڈس ٹریپ' کا پیش خیمہ ہے جہاں بالادستی کا خوف دونوں کو تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ تجارتی جنگ کا اصل میدان اب مصنوعی ذہانت (AI) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ نئی صدی میں عالمی بالادستی اور فوجی طاقت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے خود امریکی پابندیوں کے جواب میں چینی ٹیکنالوجی، خاص طور پر AI میں خود کفالت اور جدت پر زور دیا ہے۔ چین، اپنی AI ایپلی کیشنز اور تیکنیکی ترقی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔دوسری اہم کتاب، "The Hundred-Year Marathon: China’s Secret Strategy to Replace America as the Global Superpower"، مصنف مائیکل پِلسبری  کے مطابق، چین نے ایک خفیہ حکمت عملی کے تحت صدیوں سے امریکا کو غلط تاثر دیا کہ وہ ایک ترقی پذیر ملک ہے، تاکہ خاموشی سے ٹیکنالوجی اور معاشی طاقت حاصل کر سکے۔ پلسبری، جو کئی دہائیوں تک امریکی حکومت کو چین کے معاملات پر مشورہ دیتے رہے کا کہنا ہے کہ AI کی دوڑ اسی طویل المدتی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے جس کا مقصد 2049 تک امریکا کو عالمی قیادت سے ہٹا کر چین کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کی جنگی ڈرونز، خودکار نگرانی، اور ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی میں مرکزی حیثیت ہے۔ سیمی کنڈکٹرز کی برآمد پر پابندیاں اسی خوف کا اظہار ہیں کہ جو ملک AI کی بنیاد پر کنٹرول حاصل کرے گا، وہ دنیا کی ٹیکنالوجی اور دفاع پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لے گا۔ بوسان میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ایک اہم سفارتی پیش رفت سہی، مگر حقیقت یہ ہے کہ تجارتی جنگ سے نکل کر یہ دوڑ اب تیکنیکی برتری اور بالادستی کی ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا دنیا کے دو سب سے بڑے رہنما، ٹیرف کی جنگ بندی کو AI کی پرامن ترقی کی جانب لے جا سکتے ہیں، یا پھر یہ "نئی سرد جنگ"، جس کا تجزیہ گراہم ایلیسن اور مائیکل پلسبری جیسی کتب بھی کرتی ہیں، عالمی عدم استحکام کا باعث بنے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

افواہ سازی اور فیک نیوز: آزادیٔ اظہار پرلٹکتی تلوار؟