کسان کا نوحہ: گندم اور زراعت کی بدحالی
کالم : عتیق چوہدری
پاکستان جو دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام اور زرخیز زمینوں کا حامل ہے، آج گندم کے بحران اور زراعت کی سست شرح نمو کے باعث شدید اقتصادی چیلنجزکا شکار ہے۔ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اس شعبے کی بدحالی محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے کہ آخر کیوں 24 فیصد جی ڈی پی اور 42 فیصد سے زائد افرادی قوت کا بوجھ اٹھانے والا یہ شعبہ ٹوٹ رہا ہے؟ کسان کی مشکلات محض پیداواری لاگت یا کم قیمت تک محدود نہیں، بلکہ یہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط، موسمیاتی تباہی، اور حکومتی ناقص حکمت عملی کا ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ ہے۔ملکی معیشت کی ترقی کا انحصار براہ راست زراعت پر ہے، مگر اداره شماریات پاکستان اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ پی بی ایس کے مطابق، مالی سال 2025 کے لیے زرعی شعبے کی اپ ڈیٹ شدہ شرح نمو محض 1.51 فیصد رہی۔ یہ شرح قومی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے اور بنیادی طور پر گندم، کپاس اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں منفی 13.12 فیصد کی تشویشناک کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ سبز چارہ اور سبزیوں کی ترقی کے باوجود، گندم جیسے بنیادی اناج کا بحران ملکی خوراک کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق سیلاب کے اثرات کے سبب مالی سال 2026 میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پنجاب میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کی متوقع کمی ہے۔ عالمی ادارے یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب تک زرعی شعبے میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا، آئندہ مالی سالوں میں متوقع شرح نمو کا حصول ایک چیلنج رہے گا۔
کسان کی کمر توڑنے والے عوامل میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطالبےپر 56 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن والے کاشتکاروں پر 45 فیصد تک انکم ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو مزید دلدل میں دھکیل دے گا۔اس سے بھی زیادہ خطرناک اقدام روایتی سبسیڈیز کے خاتمے کی تجویز ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دونوں ہی ٹیوب ویل اور گندم کی امدادی قیمت جیسی سبسیڈیز کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔کسان کی بدحالی صرف معاشی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ قدیم طریقہ کار اور موسمیاتی تباہی کا بھی شاخسانہ ہے۔ آج بھی ہمارے کسان روایتی طریقوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈرپ اریگیشن جیسے جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ نہیں دیا جا رہا، جبکہ زرعی تحقیق کے ادارے فنڈز کی کمی کا شکار ہیں۔ رہی سہی کسر نقلی اور غیر معیاری بیج، کھاد اور ادویات کے مافیا نے پوری کر دی ہے، جو پہلے ہی مقروض کسان کو مالی طور پر تباہ کر رہے ہیں۔سیلابوں نے زرعی ڈھانچے کو تباہ کر کے کسان کی رہی سہی امید بھی ختم کر دی ہے۔ ان سب عوامل کے باوجود، پالیسی سازوں نے درست فیصلہ سازی نہیں کی۔ جب کسان نے اپنی گندم 2000 روپے میں فروخت کی، تو حکومت نے توجہ نہ دی، اور اب وہی گندم تاجر اور فیکٹری مالکان 3500 روپے میں فروخت کر رہے ہیں، جس سے آٹے کی قیمت بھی بڑھ چکی ہے۔اس سال حکومت نے 3500 روپے امدادی قیمت فی من تو مقرر کی ہے دیکھتے ہیں حکومت گندم خریدتی بھی ہے یا پھر کسان رل جائے گا۔ یہ کیسی حکمت عملی ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم خوراک کے معاملے میں خود کفیل نہ ہوسکے اور اربوں ڈالر خرچ کرکے باہر سے گندم اور چینی منگوائی؟ یہ سوال اہم ہے کہ کیا کبھی ملک میں سنجیدہ ایشوز پر بھی بات ہوگی یا محض نان ایشوز پر ہی سارا بحث و مباحثہ ہوتا رہے گا؟ حکومت کو چاہیے کہ کسان کے نوحے کو محض ایک کہانی نہ سمجھے، بلکہ اس پر فوری اور دور رس اقدامات کرے۔ جدید زراعت کو فروغ دیا جائےاور کسان کو اس کی محنت کا منصفانہ معاوضہ یقینی بنایا جائے، ورنہ گندم کا یہ بحران آئندہ سالوں میں ایک قومی المیہ بن جائے گا۔

Comments
Post a Comment