سوڈان میں حقیقی نسل کشی: سونے اور خون کا کھیل
سوڈان کی خانہ جنگی جو 15 اپریل 2023 کو سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کے درمیان طاقت کی کشمکش کے نتیجے میں بھڑکی، آج ایک خوفناک موڑ پر آ پہنچی ہے۔ یہ محض داخلی کشمکش نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی بین الاقوامی پراکسی جنگ کا اکھاڑہ بن چکی ہے جو دارفور کے شہر الفاشر میں ’حقیقی نسل کشی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل رپورٹنگ کے باوجود، دنیا کی بے حسی نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف دو جنرلوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ بین الاقوامی طاقتوں کی پراکسی جنگ، علاقائی مفادات اور انسانی المیے کا ایک ایسا مرکب بن چکی ہے جس نے پورے ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔سوڈان کا حالیہ بحران مسلم اکثریتی دنیا میں خانہ جنگیوں کی ایک طویل اور المناک تاریخ کا حصہ ہے۔ 2011 کے بعد سے، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی مسلمان ملکوں میں وسیع پیمانے پر مسلح تنازعات اور ریاستی ناکامی کی مثالیں سامنے آئی ہیں، جن میں شام، یمن، لیبیا اور عراق نمایاں ہیں۔ یہ ...