Posts

سوڈان میں حقیقی نسل کشی: سونے اور خون کا کھیل

Image
سوڈان کی خانہ جنگی جو 15 اپریل 2023 کو سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کے درمیان طاقت کی کشمکش کے نتیجے میں بھڑکی، آج ایک خوفناک موڑ پر آ پہنچی ہے۔ یہ محض داخلی کشمکش نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی بین الاقوامی پراکسی جنگ کا اکھاڑہ بن چکی ہے جو دارفور کے شہر الفاشر میں ’حقیقی نسل کشی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل رپورٹنگ کے باوجود، دنیا کی بے حسی نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف دو جنرلوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں رہی، بلکہ یہ بین الاقوامی طاقتوں کی پراکسی جنگ، علاقائی مفادات اور انسانی المیے کا ایک ایسا مرکب بن چکی ہے جس نے پورے ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔سوڈان کا حالیہ بحران مسلم اکثریتی دنیا میں خانہ جنگیوں کی ایک طویل اور المناک تاریخ کا حصہ ہے۔ 2011 کے بعد سے، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی مسلمان ملکوں میں وسیع پیمانے پر مسلح تنازعات اور ریاستی ناکامی کی مثالیں سامنے آئی ہیں، جن میں شام، یمن، لیبیا اور عراق نمایاں ہیں۔ یہ ...

عالمی بالادستی کی نئی جنگ: تجارت سے اے آئی (AI) ہتھیاروں تک!

Image
  کالم : عتیق چوہدری جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی اہم ملاقات نے عالمی منظر نامے پر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ چھ سال بعد ہونے والی اس بالمشافہ نشست میں جس طرح گرمجوشی اور مصالحتی لہجہ اپنایا گیا وہ درحقیقت ایک گہری ہوتی ہوئی "سپر پاور کی لڑائی" پر نرمی کی چادر ڈالنے کی کوشش ہے۔ تاہم سطحی سفارت کاری کے پردے کے پیچھے ایک ایسی تجارتی اور تیکنیکی جنگ جاری ہے جو اس صدی کے نئے جنگی ہتھیار یعنی مصنوعی ذہانت (AI) کے محور پر گھومتی ہے۔بوسان میں صدر ٹرمپ کا شی جن پنگ کو "پرانا دوست"، "باوقار رہنما" اور "عظیم ملک کا عظیم لیڈر" قرار دینا ساتھ ہی چینی صدر کا غزہ جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہنایہ سب ایک وقتی راحت کا احساس دلاتے ہیں۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ "بیجنگ اور واشنگٹن دو بڑی معیشتیں ہیں جن کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات ہونا معمول کی بات ہے" اور ہمیں "شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے"۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ا...

کسان کا نوحہ: گندم اور زراعت کی بدحالی

Image
 کالم : عتیق چوہدری پاکستان جو دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام اور زرخیز زمینوں کا حامل ہے، آج گندم کے بحران اور زراعت کی سست شرح نمو کے باعث شدید اقتصادی  چیلنجزکا شکار ہے۔ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اس شعبے کی بدحالی محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے کہ آخر کیوں 24 فیصد جی ڈی پی اور 42 فیصد سے زائد افرادی قوت کا بوجھ اٹھانے والا یہ شعبہ ٹوٹ رہا ہے؟ کسان کی مشکلات محض پیداواری لاگت یا کم قیمت تک محدود نہیں، بلکہ یہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط، موسمیاتی تباہی، اور حکومتی ناقص حکمت عملی کا ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ ہے۔ملکی معیشت کی ترقی کا انحصار براہ راست زراعت پر ہے، مگر اداره شماریات پاکستان اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ پی بی ایس کے مطابق، مالی سال 2025 کے لیے زرعی شعبے کی اپ ڈیٹ شدہ شرح نمو محض 1.51 فیصد رہی۔ یہ شرح قومی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے اور بنیادی طور پر گندم، کپاس اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں منفی 13.12 فیصد کی تشویشناک کارکردگی کی عکا...

طالبان : دہلی کی پراکسی، خطے کا امن خطرے میں!

Image
  کالم : عتیق چوہدری  افغانستان اور پاکستان جغرافیائی قربت اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے باوجود ہمیشہ سے ہی ایک پیچیدہ اور استعمالی (Transactional) تعلقات میں الجھے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہو ئی شر انگیزیاں ، سرحدی جھڑپوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہیں۔افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے باقاعدہ تسلیم نہ کیے جانے اور عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے افغان حکومت معاشی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تنہائی افغانستان کی قیادت کو اندرونی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مزید مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسی تنہائی اور معاشی مجبوری کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرم قوتوں کو پناہ یا سرپرستی ملنا پاکستان کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ڈیورنڈ لائن کا تنازع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بنیادی اور دیرینہ رکاوٹ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹھوس مؤق...

بلدیاتی انتخابات: غیر جماعتی کیوں؟

Image
  کالم : عتیق چوہدری        مقامی حکومتوں کا نظام کسی بھی فعال جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے؛ یہ وہ نرسری ہے جہاں سے نچلی سطح کی قیادت پروان چڑھتی ہے اور ملکی سیاسی نظام کا حصہ بنتی ہے۔ بدقسمتی سےپاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مسلسل التوا، سیاسی مفادات اور قانونی پیچیدگیوں کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ حالیہ پیش رفت، یعنی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت بلدیاتی انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ، مقامی جمہوریت کی روح اور مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ آخر یہ فیصلہ کیوں؟اس فیصلے کی سب سے بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کی وہ خودغرضانہ سوچ ہے جو مجموعی قومی مفاد پر اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں یونین کونسل (UC) کی سطح تک ایک مضبوط، فعال اور جمہوری تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر ان کے پاس ملک گیر سطح پر قیادت کو پروان چڑھانے کا کوئی واضح میکانزم ہوتا، تو وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات سے منہ نہ موڑتیں۔سیاسی جماعتوں کے اندر "انٹرا پارٹی الیکشن...

شدت پسندی کا متبادل بیانیہ ضروری

Image
عتیق چوہدری پاکستانی معاشرہ آج ایک گہرے تہذیبی، فکری اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسندی   اوردہشت گردی  کے ساتھ ساتھ عدم برداشت، فرقہ وارانہ تعصب اور سماجی ہم آہنگی کا فقدان ایک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ ایک صحت مند سماج کی بنیادی شرط "We need to agree to disagree" کا اصول ہےلیکن ہمارا معاشرہ مذہبی، لسانی اور معاشی تعصبات میں بری طرح لتھڑا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں جون ایلیا کا شعر "آؤ اختلاف رائے پر اتفاق کرلیں" ایک اجتماعی خواہش بن چکا ہے۔گزشتہ ہفتے منہاج یونیورسٹی میں بین المذاہب ہم آہنگی پر ایک نہایت اہم اور معنویت سے بھرپور کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جس کا مرکزی موضوع شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ پر  مبنی  تھا۔یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ تعلیمی ادارے اس نوعیت کی علمی و فکری سرگرمیوں کا اہتمام کر رہے ہیں، کیونکہ شدت پسندی محض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں فکری، نظریاتی اور تعلیمی  نظام میں پیوست ہیں۔ جب تک اس رجحان کے مقابلے میں ایک  ٹھوس، متبادل اور مثبت  بیانیہ  تشکیل نہیں دیا جاتا تب تک معاشرے میں "جیو اور جینے دو" جیسی ان...

CRISIS IN THE FIELDS: Wheat Policy Paralysis Pushes Pakistan Toward Food Catastrophe

Image
Atiq Chaudhary    Pakistan’s agriculture, often romanticized as the “backbone” of our economy, is not merely ailing—it is facing a systemic collapse. This crisis, centered on the volatility of the wheat crop, is a damning indictment of a nation that boasts fertile lands and one of the world’s largest irrigation networks yet struggles to feed itself. A sector contributing 24% to the GDP and employing over 40% of the labor force is being strangled by a complex web of climatic disaster, technological apathy, and crippling policy incoherence. The farmer’s lament is no longer about low wheat prices; it is a desperate cry against a system that forces him to sail between the punitive demands of international lenders and the confusing reversals of his own government. The government's wheat policy is mired in utter confusion, a state of paralysis that undermines any path to recovery, as it is caught between the global financial imperative to liberalize markets and the political com...