Posts

Showing posts from 2025

معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ

Image
    کالم : عتیق چوہدری  حکومت کی جانب سے معاشی بحران سے نکلنے کے دعوے اپنی جگہ لیکن کلیدی اقتصادی اشاریے زمینی حقائق کی سنگینی کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ ملک کی معیشت کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کا تناسب، برآمدات کی کارکردگی، بیروزگاری کی شرح اور قوت خرید جیسے اشاریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔کسی بھی معیشت کی ترقی کا انحصار اس کی سرمایہ کاری میں جی ڈی پی کے تناسب پر ہوتا ہے جو پاکستان میں شدید تشویشناک ہے۔ یہ تناسب خطے کے دیگر ممالک جہاں یہ 25 سے 30 فیصد کے قریب ہے کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024ء میں انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 13.1 فیصد کی کم ترین سطح تک گر گئی جسے نظر ثانی کے بعد 13.8 فیصد کیا گیا۔ مالی سال 2025ء میں معمولی اضافے کے باوجود یہ 14.1 فیصد تک پہنچی مگر یہ 2023ء کی سرمایہ کاری پالیسی میں طے شدہ 20 فیصد کے ہدف سے اب بھی بہت دُور ہے۔ اس مایوس کن منظر نامے کو مزید تقویت اس امر سے ملتی ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران براہ را...

پانی کا سنگین بحران

Image
   کالم : عتیق چوہدری  پاکستان آج پیچیدہ آبی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہ بحران صرف پانی کی مقدار تک محدود نہیں بلکہ اس کے معیار اور سب سے بڑھ کر ناقص انتظامی ڈھانچے (گورننس) میں موجود خلاء سے جڑا ہوا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک 2024 کی تازہ ترین رپورٹ اس حقیقت کا ایک لرزہ خیز نقشہ پیش کرتی ہے کہ ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک ایسی قومی ایمرجنسی ہے جو صحت، معیشت اور ماحولیاتی استحکام کو یکساں طور پر متاثر کر رہی ہے۔اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بارہ برسوں میں پانی کے تحفظ کے قومی اسکور میں معمولی بہتری (6.4 پوائنٹس) ضرور آئی ہے لیکن یہ بہتری آبادی میں تیز رفتار اضافہ، موسمیاتی تغیرات، اور خراب انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1972 میں 3,500 مکعب میٹر سے ڈرامائی طور پر کم ہو کر 2020 تک صرف 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہےجو اسے آبی قلت کے خطے میں دھکیل چکی ہے۔ یہ کمی نہ صرف ہماری زراعت کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ صنعتی اور...

ای چالان ،ای چالان، بھاری جرمانے اور عوامی مشکلات

Image
  کالم : عتیق چوہدری حکومت پنجاب کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے سخت نظام اور بھاری جرمانے کے نفاذ نے جہاں ایک طرف سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہیں دوسری طرف عام آدمی اور خاص طور پر سکول  اور  کالج  جانے والے بچوں کے لیے روزمرہ کی زندگی میں نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ہزاروں روپے کے غیر متوقع جرمانے ایک غریب یا متوسط طبقے کے شہری کے  ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتے ہیں جس سے خاندانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری گرفتاریوں کی پالیسی نے سڑکوں پر خوف کی فضا پیدا کر دی ہے اور جب کوئی عام شہری یا نوجوان ڈرائیور معمولی غلطی پر بھی گرفتاری کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اور اس کے خاندان کے لیے پریشانی، وقت کا ضیاع اور قانونی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ نوجوانوں کا کرمنل ریکارڈ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ نوکری بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ سکول جانے والے بچوں کے والدین جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ بچوں کو وقت پر سکول چھوڑنے کی جلدی میں ہوتے ہیں اب مسلسل اس خوف میں ...

ناکام معاشی ماڈل اور نوجوانوں کی مایوسی

Image
    پاکستان کا موجودہ معاشی منظرنامہ کئی دہائیوں کی ناکام پالیسیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے تسلط کا براہ راست نتیجہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار  کے مطابق محنت کش اور متوسط طبقہ معاشی تحفظ کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جب کہ نوجوان نسل مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔قومی لیبر فورس سروے 25-2024ء کے نتائج اس تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہےجو کہ سال 2020-21 کی 6.3 فیصد شرح سے 0.8 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بے روزگاری میں یہ اضافہ تشویشناک ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 80 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے۔روزگار کی تقسیم کے لحاظ سے سروسز سیکٹر 41.7 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے (3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد) اس کے بعد زرعی شعبہ 33.1 فیصد (2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد) اور صنعتی شعبہ 25.7 فیصد (1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد) پر ہے۔ مزدور منڈی کی اکثریت اب بھی غیر رسمی اور کم اجرت والی ملازمتوں پر مشتمل ہےجہاں 85...

The Unheeded Election Warning

Image
Column: Atiq Chaudhary  The most recent round of by-elections in Pakistan, far fro m being mere local political skirmishes, have delivered a chillingly clear verdict on the nation’s democratic health. The results are a stark, comprehensive report card exposing deep-seated structural frailties: the corrosive dominance of entrenched dynastic politics, the pervasive and deeply concerning public apathy towards the electoral process, and critical internal democratic deficits within the major political parties. Taken together, these issues signal a profound crisis of public confidence and political succession that no party, regardless of its momentary electoral gain, can afford to dismiss. To ignore these indicators would be to gamble recklessly with Pakistan’s democratic trajectory. A thorough analysis of the by-election outcomes reaffirms a grim reality: the path to political power in Pakistan is increasingly paved by hereditary lineage, not merit or public service. This pattern is the...

ضمنی انتخابات کا سبق!

Image
 ​  کالم : عتیق چوہدری  حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے پاکستانی جمہوریت کے نظام میں پنہاں کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ انتخابات صرف سیاسی فتح و شکست کا معمولی واقعہ نہیں ہیں بلکہ یہ ملک میں گہری ہوتی ہوئی موروثی سیاست، انتخابی عمل سے عوامی لاتعلقی ، سیاسی جماعتوں کی داخلی کمزوریاں ،عوامی رابطے کی کمی اور انتخابی اصلاحات کی ناگزیر ضرورت کی طرف اشارہ ہیں۔ ان نتائج کا تجزیاتی مطالعہ کئی ایسے تلخ حقائق سامنے لاتا ہے جن سے منہ موڑنا کسی بھی سیاسی جماعت یا ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہو گا۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ  پاکستانی پارلیمانی جمہوریت کے اندر ایک خاندانی جمہوریت فروغ پا چکی ہے۔ کامیابی کا راستہ عوامی خدمت، سیاسی تجربے یا قابلیت سے نہیں بلکہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ وفاقی وزراء، مشیروں اور موجودہ یا سابق اراکینِ اسمبلی کے رشتہ داروں کی کثیر تعداد میں آپس میں مقابلہ بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختیار اب وراثت میں منتقل ہو رہا ہے۔ یہ مہنگا نظام انتخاب اور انتخابات   اب عام آدمی کی نمائندگی کا ذریعہ...

نئے صوبے اب ناگزیر ؟

Image
  نئے صوبے  اب ناگزیر ؟  کالم : عتیق چوہدری  پاکستان اس وقت سیاسی بے یقینی، انتظامی بدحالی اور معاشی بحران  کا سامنا کر رہا ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن پر جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے جس کے نتیجے میں حقیقی معاشی ترقی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ رپورٹ  میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں گورننس کے ڈھانچے کو شفاف اور مؤثر  بنانے کے لئے اسٹرکچرل ریفارمز  کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ برسوں میں 5 سے 6.5 فی صد تک بہتر ہوسکتی ہے اور جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل اضافہ ممکن ہے۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کی گورننس کے یہ دیرینہ مسائل کیسے حل ہوں؟ عوام تک خدمات کی آسان، سستی اور بروقت فراہمی ، شفافیت، موثر احتساب، قانون کے یکساں اطلاق، معاشی و سماجی انصاف  کےلئے کن انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے انتظامی ڈھانچہ بہتر پرفارم کرے؟ ۔ عدلیہ میں 27 ویں ترمیم کے بعد ایک بڑی آئینی تبدیلی سامنے آ چکی ہے اور اب ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحا...

ٹرمپ ، محمد بن سلمان ملاقات اورپاکستان

Image
    کالم : عتیق چوہدری  سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی شہرہ آفاق کتابڈپلومیسی  میں لکھا تھا کہ "عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔"     تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے  میں جو نئی صف بندی ہورہی ہےوہ دنیا کی معاشی ترجیحات کو دیکھ کر ہی ہورہی ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ کے بدلتے تعلقات اور معاشی و دفاعی  ترجیحات سے مشرق وسطی کا نیا منظرنامہ بن رہا ہے  ۔ مشرق وسطی میں طاقت کا توازن اب بہت حد تک بدل گیا ہے جس میں سعودی عرب کا اثرو رسوخ کافی بڑھ گیا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ ملاقات جس نےایف 35  طیاروں کی ممکنہ ڈیل اور ایک کھرب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا دروازہ کھولا عالمی میڈیا کے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل مفادات کی نئی ترجیحات کا اعلان ہے ۔دی نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ F-35 ڈیل امریکہ کی پچاس سالہ پالیسی (اسرائیل کی فوجی برتری) میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کو محدود کرنا اور ریاض کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے دور رکھنا...

The TTP Nexus: How Kabul's Failed Governance Endangers Regional Peace

Image
  By Atiq Chaudhary The collapse of the third round of crucial Pakistan-Afghanistan peace talks in Istanbul signals a dangerous and immediate crisis on the volatile border. Despite deep ties, the relationship is now defined by deadlock, with Pakistan's Defence Minister unequivocally declaring negotiations "over." This diplomatic breakdown stems directly from the Afghan Taliban's unwillingness to commit to a written agreement to curb the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP), confirming that the regime’s governance failure is fueling cross-border violence. By maintaining an ideological sanctuary for the TTP and showing persistent disregard for established international norms, the Afghan leadership is not only failing its own people but actively inviting a renewed confrontation that jeopardizes stability across the entire South Asian region. Historically, Pakistan has been uniquely indulgent of Afghan demands. For decades, it facilitated a laissez-faire culture of trade and h...

پاکستان سنگین آبی بحران کے دہانے پر

کالم : عتیق چوہدری  عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ بحران صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی، ماحولیاتی اور یہاں تک کہ قومی سلامتی کو بھی براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطرے کی شدت کے باوجودملک کا آبپاشی کا فرسودہ نظام اور غیر مؤثر آبی انتظام اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔عالمی بینک کی حالیہ گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک تشویشناک حقیقت کا بیان ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہے جہاں زراعت میں پانی کا استعمال انتہائی غیر مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی پاکستان کو ’انتہائی آبی عدم تحفظ‘ (Extreme Water Insecurity) کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 15 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہےاور یہ تیزی سے واٹر سٹریسڈ کی درجہ بندی سے نکل کر واٹر سکیئرس درجہ بندی کی جانب بڑھ رہا ...

دہشت گردی کی نئی لہر

Image
  دہشت گردی کی نئی لہر  کالم : عتیق چوہدری  پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس  نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس کا خطرہ اگرچہ پہلے سے موجود تھا مگر حالیہ واقعات کے بعدسیکیورٹی کے منظر نامے کو از سرِ نو جانچنا ضروری نہیں لازمی ہوچکا ہے ۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول طرز پر ایک تعلیمی ادارے پر حملے کی سازش، اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکا ، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اور مختلف جگہوں پر سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملے  یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں جو گزشتہ برسوں سے وطن عزیز میں المناک واقعات کا موجب بنی ہوئی ہیں۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور شدت حملہ آوروں کی سنگ دل ، مہلک ذہنیت اور پاکستان دشمنی   بلکہ انسانیت دشمنی کی عکاسی کرتی ہےاور سب سے اہم یہ کہ ان میں سے کئی دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے جو فون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔ 20 20میں  دوحہ معاہدےمیں افغان طالبان نے پوری دنیاکو تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔مگر اگست 2021 میں کابل پر قب...

کوپ کانفرنس اور موسمیاتی تباہی سے مقابلہ

Image
  کالم نگار: عتیق چوہدری برازیل کے جنگلاتی شہر بیلیم میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی سالانہ ماحولیاتی کانفرنس (COP30) ایک ایسے عالمی موڑ پر ہو رہی ہے جب کرۂ ارض کا بحران اپنی شدت کو چھو رہا ہے۔ یہ اجلاس محض ایک اور عالمی اجتماع نہیں بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری اپنے طے شدہ اہداف خصوصاً عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 33 سال بعد ایک بار پھر برازیل کی صدارت میں اس کانفرنس کا مرکزی موضوع نئے وعدوں کے بجائے "سابقہ وعدوں کی تکمیل پر توجہ" دینا ہے جو گزشتہ دہائیوں کی ناکافی موسمیاتی کارروائی کی تصدیق کرتا ہے۔ میزبان ملک کا ایجنڈا واضح ہےکارروائی کو صرف مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے، ایمزون کے جنگلات جیسے قدرتی وسائل کے تحفظ پر براہ راست مرکوز کیا جائے جو لکڑی، معدنیات اور زراعت کی صنعتوں کے خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب عالمی قیادت صرف ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ برازیل اور چین جیسے ممالک ایک نئے مؤثر بلاک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ COP30 کا ایک فیصلہ کن اور نیا محاذ ...

بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ

Image
  بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ کالم : عتیق چوہدری  بہار جسے بھارت کا "سیاسی پاور ہاؤس" کہا جاتا ہےمیں اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ 64.44 فیصد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جو یہاں کے عوام کے سیاسی شعور اور تبدیلی کی خواہش کا ایک واضح اشارہ ہے۔ یہ انتخابات صرف ایک ریاست کی حکومت بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بھارتی  وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی وقار، قومی منظر نامے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آئندہ حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر 2029 کے لوک سبھا انتخابات کی سمت طے کرنے والے ہیں۔ یہ وہ واحد بڑی شمالی ریاست ہے جہاں بی جے پی ابھی تک اپنے بل بوتے پر حکومت نہیں بنا سکی اور ہمیشہ نتیش کمار کی جنتا دل یونٹیڈ (جے ڈی یو) کے سہارے اقتدار میں رہی۔ اب جب نتیش کی پوزیشن کمزور ہے تو بی جے پی کو یہ سنہری موقع نظر آرہا ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے اور اپنی قیادت مسلط کرے۔ اگر مودی بہار نہیں جیت پاتےتو ہندی ہارٹ لینڈ میں یہ ہار ان کے خود ساختہ اوربھارتی میڈیا کے بنائے ہوئے فیک امیج کو گہرا نقصان پہنچا سکتی ہے خصوصاً 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دو...

چینی بحران: انتظامی غلطی یا سیاسی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ؟

Image
  کالم عتیق چوہدری ملک میں چینی کی قیمت ایک بار پھر ہوشربا سطح پر پہنچ کر 220 روپے فی کلو کو چھو رہی ہے، جبکہ ایک سال قبل یہ قیمت 132 روپے تھی۔ قیمتوں کا یہ بڑھتا ہوا گراف محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں کی کمزوری اور سیاسی اثر و رسوخ کی واضح گواہی دے رہا ہے۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ گزشتہ سال وافر اسٹاک کے باوجود 12 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ایک ایسا غلط انتظامی فیصلہ تھا جس نے بحران کی بنیاد رکھی اور ایک مخصوص طبقے کو بے پناہ فائدہ پہنچایا۔ماہرین چینی بحران کی بنیادی وجوہات میں سیاسی اثر و رسوخ، شوگر مافیا (کارٹیلائزیشن)، اشرافیہ کلچر اور زراعت کے فرسودہ طریقوں کے ساتھ ساتھ ایک مناسب پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ جب بحران سر اٹھا چکا تھا، وفاقی کابینہ نے جولائی میں پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے اور اس پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا، مگر درآمد کے باوجود قیمت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں ...

The Mamdani Mirror: How NYC Reflects Pakistan's Dynasties

Image
By Atiq Chaudhry The election of Zohran Mamdani, a young Muslim socialist, to a New York City office might seem like a minor electoral victory within the legal and constitutional framework of the American capitalist system. Yet, its implications ripple through the depths of US politics, economics, and social trends. Mamdani's success, at just 34, is not merely a change in title; it signals a profound shift in traditional thinking and the very structure of American politics. He is set to become one of the city's youngest lawmakers in over a century, and the first Muslim and South Asian to hold the position. The latest round of US elections delivered a decisive sweep for Democrats across key contests, largely fueled by persistent national dissatisfaction with the country's direction and a clear rejection of the second Trump presidency. In the high-profile gubernatorial races in Virginia and New Jersey, Democratic moderates Abigail Spanberger and Mikie Sherrill prevailed. Exit...