کوپ کانفرنس اور موسمیاتی تباہی سے مقابلہ

 

کالم نگار: عتیق چوہدری

برازیل کے جنگلاتی شہر بیلیم میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی سالانہ ماحولیاتی کانفرنس (COP30) ایک ایسے عالمی موڑ پر ہو رہی ہے جب کرۂ ارض کا بحران اپنی شدت کو چھو رہا ہے۔ یہ اجلاس محض ایک اور عالمی اجتماع نہیں بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری اپنے طے شدہ اہداف خصوصاً عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 33 سال بعد ایک بار پھر برازیل کی صدارت میں اس کانفرنس کا مرکزی موضوع نئے وعدوں کے بجائے "سابقہ وعدوں کی تکمیل پر توجہ" دینا ہے جو گزشتہ دہائیوں کی ناکافی موسمیاتی کارروائی کی تصدیق کرتا ہے۔ میزبان ملک کا ایجنڈا واضح ہےکارروائی کو صرف مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے، ایمزون کے جنگلات جیسے قدرتی وسائل کے تحفظ پر براہ راست مرکوز کیا جائے جو لکڑی، معدنیات اور زراعت کی صنعتوں کے خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب عالمی قیادت صرف ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ برازیل اور چین جیسے ممالک ایک نئے مؤثر بلاک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

COP30 کا ایک فیصلہ کن اور نیا محاذ 'معلومات کی سچائی' ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر معلومات کی سچائی کے عالمی اقدام کا آغاز اور اس سے متعلقہ اعلامیہ اس بات کا گہرا تجزیاتی اعتراف ہے کہ موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں صرف اخراج پر قابو پانا کافی نہیں بلکہ سائنسی حقائق کو جھٹلانے والی 'انکار پسندی' (Denialism) اور 'غلط معلومات' (Disinformation) ایک سنگین عالمی رکاوٹ بن چکی ہے۔ برازیل کے صدر لولا دا سلوا کا یہ دو ٹوک بیان کہ "یہ موجودہ دور کا سانحہ ہے اب وقت آ گیا ہے کہ انکار پسندی کو ایک اور شکست دی جائے،" اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ موسمیاتی جنگ اب ماحول کے ساتھ ساتھ نظریات اور معلومات کے خلاف بھی لڑی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی قیادت میں جاری کیا گیا یہ اعلامیہ نجی شعبے کو 'سبز دھوکے' (Greenwashing) سے روکنے اور محققین و ماحولیاتی صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اقدام گلوبل ساؤتھ میں تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرے گا جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قابل اعتماد اور درست معلومات تک مساوی رسائی کے بغیر موسمیاتی بحران کا پائیدار حل ممکن نہیں ہے۔جہاں ایک طرف دنیا ایک عالمی بحران پر غور و خوض کر رہی ہےوہیں دوسری طرف پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سب سے بڑا شکار بن چکا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسمیاتی خطرات کی وجہ سے 2035 تک لسٹڈ کمپنیوں کو سالانہ 560 سے 610 بلین ڈالر کے اثاثوں کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ دی لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ کے مطابق 2050 تک صحت سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے 1.5 ٹریلین ڈالر کا معاشی پیداواری نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پوری دنیا کو خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔پیرس معاہدہ 2015 کا ہدف عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنا تھا، مگر رکن ممالک کے موجودہ وعدے "انتہائی ناکافی" ہیں۔ عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی خطرات کا سب سے زیادہ شکار ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ 2022  اور 2025کے تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں ملک کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا اور آئی ایم ایف کو دی گئی حالیہ رپورٹس ایک خوفناک معاشی منظر نامے کی عکاسی کرتی ہیں۔ حالیہ سیلاب سے زرعی شعبے کو 439 ارب روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا، جس نے غذائی تحفظ اور کپاس کی پیداوار کو شدید متاثر کیااور بالواسطہ طور پر صنعتی اور خدمات کے شعبے بھی مفلوج ہو کر رہ گئے۔بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز  جو جنوبی علاقوں میں 50 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتی ہے کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔جس سے پہلے سیلاب اور پھر طویل مدتی پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کا براہ راست اثر زراعت اور غذائی تحفظ پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آفات کی وجہ سے لاکھوں افراد غربت کے شکنجے میں جکڑے جانے کا اندیشہ ہے

پاکستان کی معیشت موسمیاتی تبدیلی کے بار بار آنے والے جھٹکوں سے ہل چکی ہے اور اب وہ بحالی کے لیے مزید مہنگے قرضوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ وہ نازک موڑ ہے جہاں ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ مغربی دنیا جس نے اپنی صنعتی ترقی کے لیے سب سے زیادہ کاربن اخراج کیااب اپنی ذمہ داری کو قرض کے بجائے گرانٹس اور ماحولیاتی فنڈنگ کی بروقت فراہمی کی صورت میں پورا کرے۔ وزیر اعظم  شہباز شریف کا یہ موقف بالکل درست اور بروقت ہے کہ ماحولیاتی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے والے ممالک کو قرض دینا "ماحولیاتی انصاف کے خلاف" ہے۔ اگرچہ 'لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ' کا قیام ایک اصولی کامیابی ہے مگر اس میں رقم کی فراہمی اور اس کا حجم اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز  نے برازیل میں جاری اقوام متحدہ کی سالانہ ماحولیاتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی کوئی سرحد میں نہیں ہوتیں اس لیے ماحولیاتی تحفظ کیلئے سب کومل کر کام کرنا ہو گا ۔ ماحولیاتی کانفرنسز میں ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فنڈنگ کے بڑے بڑے اعلانات کیے جاتے ہیں مگر عملی شکل اختیار نہیں کر پاتے۔  ترقی یافتہ ممالک کو 2035ء تک سالانہ 300 ارب ڈالر گرانٹس کی صورت میں دینے کے اپنے وعدے پر پوری طرح عمل درآمد کرنا چاہیے۔ان نازک حالات میں پاکستان کو صرف عالمی اعلانات کا انتظار کرنے کے بجائے ایک فعال اور جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سب سے پہلے مستند ڈیٹا اور ٹھوس بحالی منصوبوں کے ساتھ عالمی اداروں سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ 'لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ' میں مؤثر حصہ داری حاصل کی جا سکے۔ محض تقریریں نہیں ٹھوس منصوبہ بندی اور ڈیٹا ہی عالمی دنیا کو اپروچ کرنے کا واحد راستہ ہے۔ دوم، ہمیں اپنی قومی ماحولیاتی حکمت عملی  کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنا کر اس میں "گرین بانڈز" اور "ڈیٹ فار کلائمیٹ" جیسے جدید مالیاتی آلات شامل کرنے چاہیئں تاکہ نجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ سوم، پروجیکٹ فنڈنگ کے لیے ایک شفاف اور مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا جائے تاکہ بین الاقوامی فنڈز کی دستیابی میں اعتماد پیدا ہو سکے۔ملک میں اربن پلاننگ کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو مدنظر رکھ کر جدید بنایا جائے، قدرتی آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کو عوامی بیداری کے ساتھ یقینی بنایا جائے۔ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں یہ شہریوں کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے۔ عالمی تباہی کے اس دوراہے پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مالیاتی انصاف اور داخلی سطح پر ٹھوس، ڈیٹا پر مبنی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔


Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟