دہشت گردی کی نئی لہر
دہشت گردی کی نئی لہر
کالم : عتیق چوہدری
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس کا خطرہ اگرچہ پہلے سے موجود تھا مگر حالیہ واقعات کے بعدسیکیورٹی کے منظر نامے کو از سرِ نو جانچنا ضروری نہیں لازمی ہوچکا ہے ۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول طرز پر ایک تعلیمی ادارے پر حملے کی سازش، اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکا ، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اور مختلف جگہوں پر سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملے یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں جو گزشتہ برسوں سے وطن عزیز میں المناک واقعات کا موجب بنی ہوئی ہیں۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور شدت حملہ آوروں کی سنگ دل ، مہلک ذہنیت اور پاکستان دشمنی بلکہ انسانیت دشمنی کی عکاسی کرتی ہےاور سب سے اہم یہ کہ ان میں سے کئی دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے جو فون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔
20 20میں دوحہ معاہدےمیں افغان طالبان نے پوری دنیاکو تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔مگر اگست 2021 میں کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے لیکر آج تک چار سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود افغان طالبان اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کر سکے ہیں۔ ان کی سرزمین بدستور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو نہ صرف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ملی ہوئی ہیں بلکہ طالبان حکومت کی جانب سے انہیں عسکری اور مالی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔دوحہ اور استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات سےایک قسم کا صاف انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔ یہ موقف نہ صرف پاکستان کے لیے غیر تسلی بخش ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کے فیصلوں سے بھی متصادم ہےجہاں ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ افغان طالبان کا یہ رویہ نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان کے سوشل میڈیا پر پرکشش اور گستاخانہ پیغامات حالیہ حملوں کے بعد ان دھمکیوں کی عملی صورت نظر آتے ہیں۔دہشت گردی کے اس سلسلے کو صرف افغان طالبان کی عدم دلچسپی یا ٹی ٹی پی کی عسکری صلاحیت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ سلسلہ کابل اور نئی دہلی کے ساتھ براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اسلام آباد کی کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں بھارتی سپانسرڈ پراکسی فتنہ الخواج نے ذمہ داری قبول کی جس سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے افغان سرزمین کو پراکسی وار کے لیے استعمال کر رہا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔ملک کے سیکیورٹی منظر نامے کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا اورتمام سیاسی جماعتوں ،سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو سرجوڑ کر بیٹھناہوگا اور مشترکہ پالیسی بنانی ہوگی جس پر سب متفق ہو اورسیاسی اختلافات کوپس پشت ڈال کر قومی یکجہتی و قومی سلامتی پر اتفاق و اتحاد کا پیغام جانا بہت ضروری ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت جو اقدامات کیے جا رہے تھےجن کے مثبت نتائج سامنے آئے تھے ان پر عمل درآمد کو مزید تیز کیا جائے۔ملک کے اندر دہشت گردوں کےسہولت کاروں اور فنانسرز کے گھرد گھیرا تنگ کیا جائے ، جو بھی اندرونِ ملک کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے ان کے خلاف سخت کارووائی کی جائے تاکہ دوبارہ کوئی غداری کا سوچ بھی نہ سکے۔سب سے اہم یہ ہے ان کی نظریاتی بیخ کنی کی جائے اور نظریاتی سپورٹ فراہم کرنے والے لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے ۔ اسلام دین امن و محبت اور سلامتی کا دین ہے اس کو دہشت گردی کی کسی کاروائی سے جوڑنا ظلم عظیم ہے اسلام کی پرامن اور اعتدال پسند تعلیمات کے فروغ کے لئے کوششیں کی جائیں ۔ پیغام پاکستان اور وفاقی کابینہ نے انتہا پسندی کے خاتمے کے متبادل بیانیہ کے فروغ کے لئے جو پالیسی منظور کی تھی اس پر سختی سے عمل کیا جائے اور متبادل بیانیہ کے فروغ کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو انگیج کیا جائے ۔ جنوبی اور وسطی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے پاکستان اور افغانستان کے مابین اس مسئلے کو صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہنے دیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اگرچہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کھلی جنگ کا عندیہ دیا تھا مگر پاکستان ابھی تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے اور افغان طالبان کو متنبہ کررہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی تحریری گارنٹی دی جائے اوراس پر مکمل عملدرآمد کو یقین بھی بنایا جائے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان میں کھلی جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ان دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔استنبول میں تیسرے مذاکرات کے دور میں ناکامی کے بعد ایران اور ترکیہ کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصالحت کی پیشکش اور کوششیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ذاتی طور پر پاکستان اور افغانستان مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اسی طرح ایران کی طرف سے پاکستان سے تعاون کی پیشکش ،خطے کے امن کے لیے ان ممالک کی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ افغان طالبان کو قانون کی حکمرانی کا قاعدہ تسلیم کرنا ہو گا تاکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ترکیہ اور ایران کی ثالثی کی کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک ہیں اور جنگ کے عمل سے افغانستان میں کسی نئی پناہ گزیں کی لہر یا خطرے کا اندیشہ نہیں چاہتے۔ امید ہے کہ یہ برادر مسلم ممالک کی کوششیں تعمیری ثابت ہوں گی۔یہ بات واضح ہے کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی کا یہ سلسلہ صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جیو پولیٹیکل چیلنج ہے جس میں افغان طالبان کی وعدہ خلافی، بھارت کی پراکسی مداخلت اور اندرونی سہولت کاری شامل ہے ۔اب پاکستان کو سخت موقف اپنانا ہو گااورسرحد پار سے کسی بھی دہشت گردی کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے عزم کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔دہشت گردوں کے خلاف جامع اور مؤثر سیکیورٹی آپریشنز کو تیز کرنا ہو گا۔برادر مسلم ممالک جیسے ترکیہ، سعودی عرب ،قطر اور ایران کے ساتھ مل کر افغان طالبان پر یہ دباؤ بڑھانا ہو گا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔یہ ایک طویل اور مشکل جنگ ہے جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک صفحے پر رہ کر نیشنل ایکشن پلان کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنا ہو گا۔ملک میں امن و امان کی صورتحال کا بہتر ہونا ہی اقتصادی استحکام اور سماجی ترقی کا ضامن ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے اس وار کو مشترکہ سیاسی، عسکری اور سفارتی حکمت عملی سے شکست دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

Comments
Post a Comment