بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ

 

بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ

کالم : عتیق چوہدری 

بہار جسے بھارت کا "سیاسی پاور ہاؤس" کہا جاتا ہےمیں اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ 64.44 فیصد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جو یہاں کے عوام کے سیاسی شعور اور تبدیلی کی خواہش کا ایک واضح اشارہ ہے۔ یہ انتخابات صرف ایک ریاست کی حکومت بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بھارتی  وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی وقار، قومی منظر نامے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آئندہ حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر 2029 کے لوک سبھا انتخابات کی سمت طے کرنے والے ہیں۔ یہ وہ واحد بڑی شمالی ریاست ہے جہاں بی جے پی ابھی تک اپنے بل بوتے پر حکومت نہیں بنا سکی اور ہمیشہ نتیش کمار کی جنتا دل یونٹیڈ (جے ڈی یو) کے سہارے اقتدار میں رہی۔ اب جب نتیش کی پوزیشن کمزور ہے تو بی جے پی کو یہ سنہری موقع نظر آرہا ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے اور اپنی قیادت مسلط کرے۔ اگر مودی بہار نہیں جیت پاتےتو ہندی ہارٹ لینڈ میں یہ ہار ان کے خود ساختہ اوربھارتی میڈیا کے بنائے ہوئے فیک امیج کو گہرا نقصان پہنچا سکتی ہے خصوصاً 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دو تہائی اکثریت کھونے کے بعد یہ دوسرا بڑا دھچکا ہوگا۔بی جے پی کی سیاست کا بنیادی ستون اس کا پاکستان مخالف بیانیہ اور مسلم دشمنی رہا ہے۔ جب بھی پارٹی کو انتخابی مشکل کا سامنا ہوتا ہےیا عوام کا دھیان مہنگائی، بے روزگاری اور ناقص معاشی پالیسیوں جیسے حقیقی مسائل سے ہٹانا مقصود ہوتا ہے، توپاکستان کارڈ کا آزمودہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ 2014 کے بعد سے لے کر 2002 کے گجرات فسادات اور بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر تک، مودی کی سیاست کا مرکز ہمیشہ مسلم مخالفت اور ہندواتہ کی پرموشن و پروٹیکشن  رہی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت مختلف انتخابات سے قبل بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک اور سرجیکل اسٹرائیک جیسے عسکری ڈراموں و منفی پروپگینڈا  کو قومی سلامتی اور مودی کی مضبوط قیادت کے طور پر پیش کیا گیا۔پہلگام کا بھارتی فالس فلیگ آپریشن بھی مودی حکومت کی اسی پالیسی کا حصہ تھا ۔ بہار میں بھی اسی بیانیہ کو جارحانہ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹر کے دل میں قوم پرستی کی آگ بھڑکائی جا سکے اور عوام کو ہندومسلم تقسیم کی طرف لایا جا سکے۔اس بیانیہ کی ترویج میں بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے جو حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کسی بھی اندرونی یا بیرونی واقعے کو فوراً پاکستان کی سازش سے جوڑ دیتے ہیں اور مبالغہ آرائی پر مبنی جذباتی رپورٹنگ کرتے ہیں۔بھارتی میڈیا اس وقت فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن پھیلانے میں پیش پیش ہے بغیر تحقیق کے ریاستی پروپگینڈا بھارتی میڈیا کی واحد پہچان بن چکاہے ۔  وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتے ہیں جس سے ملک میں انتہا پسند سیاست کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ مئی کے مبینہ واقعات کے بعد بھی بھارتی میڈیا نے فوراً ایک جھوٹا بیانیہ گھڑ کر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی پشت پناہی کی۔ یہ میڈیا رویہ نہ صرف انتخابی عمل کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک کی جمہوری ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی پروپیگنڈے کی وجہ سے بہار میں بھی دھاندلی، ووٹرز کو رقم کی لالچ دینے اور ووٹوں کی جعل سازی جیسے الزامات سامنے آئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی ہر قیمت پر اقتدار پر قابض رہنا چاہتی ہے۔ مودی کے لیے بہار کا الیکشن اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کا جو مسئلہ چل رہا ہے جس میں ٹرمپ بار بار جنگ بندی کروانے کی باتیں دہراتے رہتے ہیں، کبھی وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے انڈیا سے کاروبار نہ کرنے کی وارننگ دے کر مودی کو جنگ بندی کے لیے آمادہ کیا۔ ان سب باتوں سے ملک کے اندر اپنے مداحوں کے مابین مودی کی جو ساکھ تھی اسے بہت حد تک نقصان پہنچا۔ ٹرمپ بار بار عالمی فورمز پر دنیا کو یاد کرواتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے سات جہاز گرائے تھے ایک موقع پر تو مودی نے آٹھ طیارے گرانے کی بات بھی کی ۔ اور ٹرمپ نے پوری دنیا کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کی درخواست پر امریکہ نے سیز فائر کروایا ۔اس کے ساتھ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان کی بار بار تعریف بھی کرتے نظر آتے ہیں جس سے مودی کی ساکھ اور جھوٹے بیانیہ کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔ اس لئے مودی اس تاریخی ہزیمت کومٹانے کے لئے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اگروہ بہار کا الیکشن جیت جاتے ہیں تو انھیں اپنا امیج بحال کرنے میں مدد ملے گی۔اس بار بہار میں ایک نئی سیاسی لہر نظر آ رہی ہے۔ مہا گٹھ بندھن، جس میں تیجسوی یادو کی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، اور سماجی انصاف جیسے عوامی مسائل پر عوام کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مہا گٹھ بندھن نے 10 لاکھ نوکریوں کا وعدہ کر کے ایک ایسا بیانیہ پیش کیا ہے جو بے روزگاری سے تنگ عوام کو مودی کے پاکستان مخالف بیانیے سے دور لے جانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ پرشانت کشور کی ’جن سوراج پارٹی‘ بھی ذات پات سے ہٹ کر گورننس کی بات کر کے نوجوان ووٹرز کو متوجہ کر رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان سے مبینہ جنگی شکست کے بعد مودی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور ان کا مسلمان مخالف بیانیہ اب عوامی پذیرائی کھو رہا ہے۔ نوجوان اور پسماندہ طبقات اب کھل کر بی جے پی کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ بہار الیکشن 2025 نریندر مودی کے لیے وقار کی جنگ ہے، جہاں انہیں قومی شبیہ کے برعکس مقامی سطح پر بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی ناکامیوں جیسے حقیقی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عوام کا غصہ بڑھ رہا ہے کہ حکومت نے ترقی کے وعدوں کو پس پشت ڈال کر صرف ہندو قوم پرستی کو فروغ دیا۔ عالمی ناکامیوں پر ہونے والی تنقید نے مودی کی مضبوط لیڈر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس عوامی بیزاری کے باعث مودی کا روایتی "پاکستان کارڈ" اب کمزور پڑ رہا ہے۔ تجزیے کے مطابق، ووٹنگ کا زیادہ رجحان اور عوام کا تعلیم و روزگار جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ مہا گٹھ بندھن INDIA الائنس کی واضح اکثریت کے امکانات روشن ہیں۔ بہار الیکشن 2025 کا نتیجہ جو 14 نومبر 2025 کو آئے گا، مودی کے خود ساختہ فیک امیج کو گہرا نقصان پہنچا کر ملک بھر کی اپوزیشن کو ایک نئی امید دے سکتا ہے۔ بھارتی عوام اب بظاہر مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور پاکستان مخالف بیانیہ سے تنگ آ چکے ہیں کیونکہ ان کی پالیسیوں نے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ دہلی بلاسٹ جیسے واقعات پر بھارتی میڈیا کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم بھی عوامی سطح پر ناکام ہو چکی ہےکیونکہ تفتیشی شواہد نے اس "فالس فلیگ" ڈرامے کی قلعی کھول دی ہے۔ عوام کی نظر میں مودی سرکار کا سفاک ڈرامہ اور پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ خطے میں امن کے لیے مودی کے جنگی جنون کو شکست دینا لازمی ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا ایک بار پھر قوم پرستی جیتے گی یا عوام اپنے حقیقی مسائل پر ووٹ دے کر ہندوستانی سیاست کا مستقبل طے کریں گے؟







Comments

Popular posts from this blog

پاکستان میں اشرافیہ کا تسلط اور مڈل کلاس کا "راستہ روکنا"

اے ارضِ پاک تیری حرمت پہ کٹ مرے ہم

لاہور ڈیکلریشن کیا تھا ؟