چینی بحران: انتظامی غلطی یا سیاسی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ؟
کالم عتیق چوہدری
ملک میں چینی کی قیمت ایک بار پھر ہوشربا سطح پر پہنچ کر 220 روپے فی کلو کو چھو رہی ہے، جبکہ ایک سال قبل یہ قیمت 132 روپے تھی۔ قیمتوں کا یہ بڑھتا ہوا گراف محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں کی کمزوری اور سیاسی اثر و رسوخ کی واضح گواہی دے رہا ہے۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ گزشتہ سال وافر اسٹاک کے باوجود 12 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ایک ایسا غلط انتظامی فیصلہ تھا جس نے بحران کی بنیاد رکھی اور ایک مخصوص طبقے کو بے پناہ فائدہ پہنچایا۔ماہرین چینی بحران کی بنیادی وجوہات میں سیاسی اثر و رسوخ، شوگر مافیا (کارٹیلائزیشن)، اشرافیہ کلچر اور زراعت کے فرسودہ طریقوں کے ساتھ ساتھ ایک مناسب پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ جب بحران سر اٹھا چکا تھا، وفاقی کابینہ نے جولائی میں پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے اور اس پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا، مگر درآمد کے باوجود قیمت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں بلکہ کمزور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور مارکیٹ کے غیر شفاف میکانزم کا ہے۔یہ بحران محض عام صارف کو مہنگی چینی خریدنے پر مجبور نہیں کر رہا بلکہ اس کی سب سے بڑی زد چھوٹے گنا کاشتکار پر پڑ رہی ہے۔ پاکستان میں 90 میں سے تقریباً 77 شوگر ملیں آپریشنل ہیں اور ملک کی سالانہ کھپت تقریباً 6.5 ملین میٹرک ٹن ہے۔ رواں سال سیلاب سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کے سبب کرشنگ کا آغاز بھی اکتوبر کے بجائے 20 نومبر سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس نے مصنوعی قلت کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس تاخیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیار فصل ہونے کے باوجود عوام کو مہنگی درآمدی چینی خریدنی پڑ رہی ہے۔گنے کے کاشتکاروں کی مشکلات شوگر مافیا کے ہاتھوں سالہا سال سے جاری استحصال کی کہانی سناتی ہیں۔ کسان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ انہیں پیداواری لاگت پر 25 فیصد منافع یقینی بنایا جائے، مگر شوگر ملز مالکان کی جانب سے کرشنگ سیزن میں تاخیر، حکومتی نرخوں سے کم قیمت پر ادائیگی اور گنا اٹھانے میں حیلے بہانوں سے کسان بدحال ہیں۔ کھاد، زرعی ادویات اور دیگر لوازمات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ان کی کمر توڑ دیتا ہے، جس کی وجہ سے کئی بار ان کی تیار فصلیں کھیتوں میں ہی سوکھ جاتی ہیں اور وہ مالی نقصانات اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔چینی بحران کی اصل جڑ درحقیقت سیاسی اثر و رسوخ اور شوگر مافیا کے گٹھ جوڑ میں پیوست ہے۔ چونکہ شوگر ملز کے مالکان میں زیادہ تر بااثر سیاستدان شامل ہیں، اس لیے ان کے خلاف ٹھوس اور مستقل کارروائیاں عموماً کامیاب نہیں ہو پاتیں۔پاکستان کی شوگر انڈسٹری بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی معیشت میں کام کرتی ہے۔ پیداوار اور ذخائر سے متعلق اعداد و شمار اکثر غیر معتبر اور غیر مصدقہ ہوتے ہیں، جس کی بڑی وجہ ادارہ جاتی غفلت خصوصاً ادارہ شماریات کی ناکامی ہے۔ اس ناقص نظام کی وجہ سے کئی مرتبہ بظاہر وافر ذخائر کو برآمد کر دیا گیا، اور بعد ازاں جب مقامی قلت ظاہر ہوئی تو مہنگے داموں درآمد کرنا پڑا۔ بروقت اور حقیقی ڈیٹا کی عدم موجودگی میں ذخیرہ اندوز عناصر اس غیر یقینی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں اور قیمتوں کو بلا روک ٹوک اپنی مرضی سے بڑھا دیتے ہیں۔
گزشتہ حکومتوں نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے، مگر وہ زیادہ تر غیر سنجیدہ، وقتی اور کمزور نوعیت کے رہے۔ مستقل پالیسی کا فقدان اور قانون پر ناقص عملدرآمد نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔چینی بحران کا حل وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ ایک پائیدار، شفاف اور ڈیٹا پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک میں پوشیدہ ہے۔ یہ فریم ورک منڈی میں طلب و رسد کا درست اندازہ لگا کر پالیسی مرتب کرے، منافع خوری کو روکے، اور کاشتکار، صنعت کار اور صارف — تینوں کے مفادات میں توازن قائم کرے۔نیم ریاستی و نیم مارکیٹ ماڈل (semi state-semi market model) ایک قابل عمل حل ہو سکتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں پنجاب حکومت نے شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ کے تحت اسی طرز کا ایک نظام کامیابی سے چلایا تھا، جس میں گنے کی تقسیم اور اضافی چینی کی حکومتی خریداری شامل تھی۔ موجودہ حالات میں اسی طرز کے ایک جدید ورژن کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھارت کے ’کنٹرولڈ ڈی ریگولیشن ماڈل‘ اور فلپائن کے ’مرحلہ وار ڈی ریگولیشن نظام‘ سے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں سبسڈی کا بوجھ بتدریج ختم کر کے اس کا اثر کسانوں اور صارفین تک منتقل کیا گیا۔ چونکہ زیادہ تر شوگر ملز سیاست دانوں کی ملکیت ہیں، اس لیے ڈی ریگولیشن کا آغاز صنعت کی سطح سے ہونا چاہیے تاکہ کارٹیلائزیشن کو ختم کیا جا سکے۔
2020 کی شوگر انکوائری رپورٹ میں شوگر ملز مالکان کی کارٹلائزیشن، غلط سبسڈی اور ٹیکس چوری جیسے الزامات کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر سیاسی رکاوٹوں اور عدالتی چارہ جوئی کے باعث یہ کوششیں منطقی انجام تک نہ پہنچ سکیں۔ حال ہی میں چینی مافیا میں شامل افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے جیسے اقدامات بھی وقتی اور سطحی ثابت ہوئے۔ ملک کی اہم ترین عدالتوں کو بھی وقتاً فوقتاً مداخلت کرنا پڑی تاکہ کسانوں کے گنے کی سرکاری نرخ پر خریداری کو یقینی بنایا جا سکے، جو انتظامی فیصلوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔اس وقت کرشنگ سیزن کو مزید مؤخر کرنا درست نہیں؛ اس حوالے سے فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔ نیز مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر سے نمٹنا از حد ضروری ہے، جس کے لیے نہ صرف بااثر شوگر ملز مالکان کے خلاف غیر سیاسی اور مستقل کارروائی کی ضرورت ہے بلکہ چھوٹے کاشتکاروں کو بھی منافع بخش قیمت اور گنے کی بروقت اٹھائی کو یقینی بنانا ہو گا۔چینی بحران کے تناظر میں گنے کے کاشتکاروں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی احتجاجی تحریکیں سنگین مسئلہ ہیں۔ شوگر مل مالکان کی طرف سے ان محنت کش کسانوں کو ان کی واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی نہ صرف زرعی معیشت کو متاثر کرتی ہے بلکہ امن و امان کے مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ قرض اور ذخائر کا باہمی تبادلے کا ایک قابل عمل نظام متعارف کروائے، تاکہ شوگر مل مالکان کو ادائیگیوں سے راہِ فرار اختیار کرنے کا موقع نہ ملے اور مجوزہ سہ فریقی معاہدے میں ایک واضح اور لازمی شق شامل کرے، جس کے تحت کاشتکاروں کو ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کا اعتماد بحال ہو گا بلکہ چینی بحران سے جڑے دیگر پیچیدہ مسائل کے حل میں بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ پاکستان میں چینی کا بحران دراصل پیداوار کا نہیں بلکہ پالیسی، نیت اور نفاذ کا بحران ہے۔ اگر ریاست سنجیدہ ہو، پالیسیوں میں تسلسل لائے، اور فیصلہ سازی میں شفافیت اختیار کرے تو یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو سکتا ہے اور غریب عوام کا استحصال ختم ہو گا۔

Comments
Post a Comment