ناکام معاشی ماڈل اور نوجوانوں کی مایوسی
پاکستان کا موجودہ معاشی منظرنامہ کئی دہائیوں کی ناکام پالیسیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے تسلط کا براہ راست نتیجہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق محنت کش اور متوسط طبقہ معاشی تحفظ کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جب کہ نوجوان نسل مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔قومی لیبر فورس سروے 25-2024ء کے نتائج اس تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہےجو کہ سال 2020-21 کی 6.3 فیصد شرح سے 0.8 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بے روزگاری میں یہ اضافہ تشویشناک ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 80 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے۔روزگار کی تقسیم کے لحاظ سے سروسز سیکٹر 41.7 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے (3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد) اس کے بعد زرعی شعبہ 33.1 فیصد (2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد) اور صنعتی شعبہ 25.7 فیصد (1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد) پر ہے۔ مزدور منڈی کی اکثریت اب بھی غیر رسمی اور کم اجرت والی ملازمتوں پر مشتمل ہےجہاں 85...