Posts

Showing posts from November, 2025

ناکام معاشی ماڈل اور نوجوانوں کی مایوسی

Image
    پاکستان کا موجودہ معاشی منظرنامہ کئی دہائیوں کی ناکام پالیسیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے تسلط کا براہ راست نتیجہ ہے۔ دستیاب اعداد و شمار  کے مطابق محنت کش اور متوسط طبقہ معاشی تحفظ کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جب کہ نوجوان نسل مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہے۔قومی لیبر فورس سروے 25-2024ء کے نتائج اس تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہےجو کہ سال 2020-21 کی 6.3 فیصد شرح سے 0.8 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بے روزگاری میں یہ اضافہ تشویشناک ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً 80 لاکھ افراد بیروزگار ہیں جب کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے۔روزگار کی تقسیم کے لحاظ سے سروسز سیکٹر 41.7 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے (3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد) اس کے بعد زرعی شعبہ 33.1 فیصد (2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد) اور صنعتی شعبہ 25.7 فیصد (1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد) پر ہے۔ مزدور منڈی کی اکثریت اب بھی غیر رسمی اور کم اجرت والی ملازمتوں پر مشتمل ہےجہاں 85...

The Unheeded Election Warning

Image
Column: Atiq Chaudhary  The most recent round of by-elections in Pakistan, far fro m being mere local political skirmishes, have delivered a chillingly clear verdict on the nation’s democratic health. The results are a stark, comprehensive report card exposing deep-seated structural frailties: the corrosive dominance of entrenched dynastic politics, the pervasive and deeply concerning public apathy towards the electoral process, and critical internal democratic deficits within the major political parties. Taken together, these issues signal a profound crisis of public confidence and political succession that no party, regardless of its momentary electoral gain, can afford to dismiss. To ignore these indicators would be to gamble recklessly with Pakistan’s democratic trajectory. A thorough analysis of the by-election outcomes reaffirms a grim reality: the path to political power in Pakistan is increasingly paved by hereditary lineage, not merit or public service. This pattern is the...

ضمنی انتخابات کا سبق!

Image
 ​  کالم : عتیق چوہدری  حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے پاکستانی جمہوریت کے نظام میں پنہاں کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ انتخابات صرف سیاسی فتح و شکست کا معمولی واقعہ نہیں ہیں بلکہ یہ ملک میں گہری ہوتی ہوئی موروثی سیاست، انتخابی عمل سے عوامی لاتعلقی ، سیاسی جماعتوں کی داخلی کمزوریاں ،عوامی رابطے کی کمی اور انتخابی اصلاحات کی ناگزیر ضرورت کی طرف اشارہ ہیں۔ ان نتائج کا تجزیاتی مطالعہ کئی ایسے تلخ حقائق سامنے لاتا ہے جن سے منہ موڑنا کسی بھی سیاسی جماعت یا ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہو گا۔ایک بار پھر ثابت ہوا کہ  پاکستانی پارلیمانی جمہوریت کے اندر ایک خاندانی جمہوریت فروغ پا چکی ہے۔ کامیابی کا راستہ عوامی خدمت، سیاسی تجربے یا قابلیت سے نہیں بلکہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ وفاقی وزراء، مشیروں اور موجودہ یا سابق اراکینِ اسمبلی کے رشتہ داروں کی کثیر تعداد میں آپس میں مقابلہ بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختیار اب وراثت میں منتقل ہو رہا ہے۔ یہ مہنگا نظام انتخاب اور انتخابات   اب عام آدمی کی نمائندگی کا ذریعہ...

نئے صوبے اب ناگزیر ؟

Image
  نئے صوبے  اب ناگزیر ؟  کالم : عتیق چوہدری  پاکستان اس وقت سیاسی بے یقینی، انتظامی بدحالی اور معاشی بحران  کا سامنا کر رہا ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن پر جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے جس کے نتیجے میں حقیقی معاشی ترقی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ رپورٹ  میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ پاکستان میں گورننس کے ڈھانچے کو شفاف اور مؤثر  بنانے کے لئے اسٹرکچرل ریفارمز  کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت آئندہ پانچ برسوں میں 5 سے 6.5 فی صد تک بہتر ہوسکتی ہے اور جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل اضافہ ممکن ہے۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کی گورننس کے یہ دیرینہ مسائل کیسے حل ہوں؟ عوام تک خدمات کی آسان، سستی اور بروقت فراہمی ، شفافیت، موثر احتساب، قانون کے یکساں اطلاق، معاشی و سماجی انصاف  کےلئے کن انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے انتظامی ڈھانچہ بہتر پرفارم کرے؟ ۔ عدلیہ میں 27 ویں ترمیم کے بعد ایک بڑی آئینی تبدیلی سامنے آ چکی ہے اور اب ملک کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحا...

ٹرمپ ، محمد بن سلمان ملاقات اورپاکستان

Image
    کالم : عتیق چوہدری  سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی شہرہ آفاق کتابڈپلومیسی  میں لکھا تھا کہ "عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔"     تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے  میں جو نئی صف بندی ہورہی ہےوہ دنیا کی معاشی ترجیحات کو دیکھ کر ہی ہورہی ہے ۔ سعودی عرب اور امریکہ کے بدلتے تعلقات اور معاشی و دفاعی  ترجیحات سے مشرق وسطی کا نیا منظرنامہ بن رہا ہے  ۔ مشرق وسطی میں طاقت کا توازن اب بہت حد تک بدل گیا ہے جس میں سعودی عرب کا اثرو رسوخ کافی بڑھ گیا ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ ملاقات جس نےایف 35  طیاروں کی ممکنہ ڈیل اور ایک کھرب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا دروازہ کھولا عالمی میڈیا کے لیے محض ایک خبر نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل مفادات کی نئی ترجیحات کا اعلان ہے ۔دی نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ F-35 ڈیل امریکہ کی پچاس سالہ پالیسی (اسرائیل کی فوجی برتری) میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کو محدود کرنا اور ریاض کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے دور رکھنا...

The TTP Nexus: How Kabul's Failed Governance Endangers Regional Peace

Image
  By Atiq Chaudhary The collapse of the third round of crucial Pakistan-Afghanistan peace talks in Istanbul signals a dangerous and immediate crisis on the volatile border. Despite deep ties, the relationship is now defined by deadlock, with Pakistan's Defence Minister unequivocally declaring negotiations "over." This diplomatic breakdown stems directly from the Afghan Taliban's unwillingness to commit to a written agreement to curb the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP), confirming that the regime’s governance failure is fueling cross-border violence. By maintaining an ideological sanctuary for the TTP and showing persistent disregard for established international norms, the Afghan leadership is not only failing its own people but actively inviting a renewed confrontation that jeopardizes stability across the entire South Asian region. Historically, Pakistan has been uniquely indulgent of Afghan demands. For decades, it facilitated a laissez-faire culture of trade and h...

پاکستان سنگین آبی بحران کے دہانے پر

کالم : عتیق چوہدری  عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین آبی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ بحران صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی، ماحولیاتی اور یہاں تک کہ قومی سلامتی کو بھی براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خطرے کی شدت کے باوجودملک کا آبپاشی کا فرسودہ نظام اور غیر مؤثر آبی انتظام اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔عالمی بینک کی حالیہ گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ محض ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک تشویشناک حقیقت کا بیان ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہے جہاں زراعت میں پانی کا استعمال انتہائی غیر مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بھی پاکستان کو ’انتہائی آبی عدم تحفظ‘ (Extreme Water Insecurity) کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن 15 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت سب سے زیادہ ہے اور پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہےاور یہ تیزی سے واٹر سٹریسڈ کی درجہ بندی سے نکل کر واٹر سکیئرس درجہ بندی کی جانب بڑھ رہا ...

دہشت گردی کی نئی لہر

Image
  دہشت گردی کی نئی لہر  کالم : عتیق چوہدری  پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس  نئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس کا خطرہ اگرچہ پہلے سے موجود تھا مگر حالیہ واقعات کے بعدسیکیورٹی کے منظر نامے کو از سرِ نو جانچنا ضروری نہیں لازمی ہوچکا ہے ۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول طرز پر ایک تعلیمی ادارے پر حملے کی سازش، اسلام آباد کی کچہری میں خودکش دھماکا ، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اور مختلف جگہوں پر سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملے  یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں جو گزشتہ برسوں سے وطن عزیز میں المناک واقعات کا موجب بنی ہوئی ہیں۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور شدت حملہ آوروں کی سنگ دل ، مہلک ذہنیت اور پاکستان دشمنی   بلکہ انسانیت دشمنی کی عکاسی کرتی ہےاور سب سے اہم یہ کہ ان میں سے کئی دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ثابت ہوا ہے جو فون پر وہیں سے ہدایات لے رہے تھے۔ 20 20میں  دوحہ معاہدےمیں افغان طالبان نے پوری دنیاکو تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔مگر اگست 2021 میں کابل پر قب...

کوپ کانفرنس اور موسمیاتی تباہی سے مقابلہ

Image
  کالم نگار: عتیق چوہدری برازیل کے جنگلاتی شہر بیلیم میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی سالانہ ماحولیاتی کانفرنس (COP30) ایک ایسے عالمی موڑ پر ہو رہی ہے جب کرۂ ارض کا بحران اپنی شدت کو چھو رہا ہے۔ یہ اجلاس محض ایک اور عالمی اجتماع نہیں بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری اپنے طے شدہ اہداف خصوصاً عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 33 سال بعد ایک بار پھر برازیل کی صدارت میں اس کانفرنس کا مرکزی موضوع نئے وعدوں کے بجائے "سابقہ وعدوں کی تکمیل پر توجہ" دینا ہے جو گزشتہ دہائیوں کی ناکافی موسمیاتی کارروائی کی تصدیق کرتا ہے۔ میزبان ملک کا ایجنڈا واضح ہےکارروائی کو صرف مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے، ایمزون کے جنگلات جیسے قدرتی وسائل کے تحفظ پر براہ راست مرکوز کیا جائے جو لکڑی، معدنیات اور زراعت کی صنعتوں کے خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب عالمی قیادت صرف ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ برازیل اور چین جیسے ممالک ایک نئے مؤثر بلاک کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ COP30 کا ایک فیصلہ کن اور نیا محاذ ...

بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ

Image
  بہار الیکشن اور مودی کا پاکستان مخالف کارڈ کالم : عتیق چوہدری  بہار جسے بھارت کا "سیاسی پاور ہاؤس" کہا جاتا ہےمیں اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ 64.44 فیصد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جو یہاں کے عوام کے سیاسی شعور اور تبدیلی کی خواہش کا ایک واضح اشارہ ہے۔ یہ انتخابات صرف ایک ریاست کی حکومت بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ بھارتی  وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی وقار، قومی منظر نامے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آئندہ حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر 2029 کے لوک سبھا انتخابات کی سمت طے کرنے والے ہیں۔ یہ وہ واحد بڑی شمالی ریاست ہے جہاں بی جے پی ابھی تک اپنے بل بوتے پر حکومت نہیں بنا سکی اور ہمیشہ نتیش کمار کی جنتا دل یونٹیڈ (جے ڈی یو) کے سہارے اقتدار میں رہی۔ اب جب نتیش کی پوزیشن کمزور ہے تو بی جے پی کو یہ سنہری موقع نظر آرہا ہے کہ وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے اور اپنی قیادت مسلط کرے۔ اگر مودی بہار نہیں جیت پاتےتو ہندی ہارٹ لینڈ میں یہ ہار ان کے خود ساختہ اوربھارتی میڈیا کے بنائے ہوئے فیک امیج کو گہرا نقصان پہنچا سکتی ہے خصوصاً 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دو...

چینی بحران: انتظامی غلطی یا سیاسی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ؟

Image
  کالم عتیق چوہدری ملک میں چینی کی قیمت ایک بار پھر ہوشربا سطح پر پہنچ کر 220 روپے فی کلو کو چھو رہی ہے، جبکہ ایک سال قبل یہ قیمت 132 روپے تھی۔ قیمتوں کا یہ بڑھتا ہوا گراف محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انتظامی فیصلوں کی کمزوری اور سیاسی اثر و رسوخ کی واضح گواہی دے رہا ہے۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ گزشتہ سال وافر اسٹاک کے باوجود 12 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی گئی، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ایک ایسا غلط انتظامی فیصلہ تھا جس نے بحران کی بنیاد رکھی اور ایک مخصوص طبقے کو بے پناہ فائدہ پہنچایا۔ماہرین چینی بحران کی بنیادی وجوہات میں سیاسی اثر و رسوخ، شوگر مافیا (کارٹیلائزیشن)، اشرافیہ کلچر اور زراعت کے فرسودہ طریقوں کے ساتھ ساتھ ایک مناسب پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں۔ جب بحران سر اٹھا چکا تھا، وفاقی کابینہ نے جولائی میں پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے اور اس پر ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا، مگر درآمد کے باوجود قیمت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں ...

The Mamdani Mirror: How NYC Reflects Pakistan's Dynasties

Image
By Atiq Chaudhry The election of Zohran Mamdani, a young Muslim socialist, to a New York City office might seem like a minor electoral victory within the legal and constitutional framework of the American capitalist system. Yet, its implications ripple through the depths of US politics, economics, and social trends. Mamdani's success, at just 34, is not merely a change in title; it signals a profound shift in traditional thinking and the very structure of American politics. He is set to become one of the city's youngest lawmakers in over a century, and the first Muslim and South Asian to hold the position. The latest round of US elections delivered a decisive sweep for Democrats across key contests, largely fueled by persistent national dissatisfaction with the country's direction and a clear rejection of the second Trump presidency. In the high-profile gubernatorial races in Virginia and New Jersey, Democratic moderates Abigail Spanberger and Mikie Sherrill prevailed. Exit...

نیویارک میں تبدیلی ، پاکستان میں کیسے آئے گی ؟

Image
  کالم : عتیق چوہدری ​امریکی سرمائے دارانہ نظام کے قانونی اور آئینی الیکٹورل ڈھانچے میں ایک نوجوان مسلمان سوشلسٹ زہران ممدانی کا نیویارک سٹی میئر کے عہدے پر براجمان ہونا بظاہر ایک معمولی انتخابی فتح ہے، مگر اس کے مضمرات امریکی سیاست، معیشت اور سماجی رجحانات کی گہرائیوں تک جاتے ہیں۔ 34 سالہ ممدانی کی یہ کامیابی محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں، بلکہ روایتی سوچ اور امریکی سیاسی ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کا اشارہ ہے۔ 100 سال سے بھی زائد عرصے میں   ممدانی شہر کے سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص ہوں گے۔عالمی میڈیا نے اس جیت کو فوری اور غیر معمولی کوریج دی جو اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ دی گارڈین نے اس جیت کو "ایک خود ساختہ ہونے والی اجتماعی ہذیانی کیفیت" قرار دیا اور کہا کہ ممدانی کی کامیابی نے اسلاموفوبیا کی بدصورتی کو بے نقاب کیا ہے۔ وہیں نیو یارک ٹائمز کے حوالے سے بروکنگز نے لکھا کہ ممدانی نے "کچھ ایسا کر دکھایا جو شہر نے پہلے نہیں دیکھا تھا: ایک جیتنے والی مہم جو مہینوں میں کھڑی کی گئی"۔ یہ جیت کئی پہلوؤں سے نظام ک...

Beyond Tariffs: The US-China Race for AI Supremacy

Image
  Column by Atiq Chaudhry A critical meeting between US President Donald Trump and Chinese President Xi Jinping on the sidelines of the Asia-Pacific Economic Cooperation (APEC) Summit in Busan, South Korea, has injected a temporary dose of optimism into the volatile global landscape. This face-to-face encounter the first in six years was marked by a warmth and conciliatory tone designed to soften the edges of a deepening "superpower rivalry." Yet, beneath the veneer of diplomatic cordiality lies an escalating commercial and technological war, the new epicenter of which is Artificial Intelligence (AI) the 21st century's most potent strategic weapon. In Busan, President Trump’s characterization of Xi Jinping as an “old friend,” a “distinguished leader,” and a “great leader of a great country,” coupled with the Chinese President's praise for the US role in the Gaza ceasefire, offered a fleeting sense of relief. As President Xi Jinping noted, "Beijing and Washington ...

صحافیوں کی زندگی اور آزادی صحافت خطرے میں!

Image
  کالم : عتیق چوہدری  2 نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن ایک بار پھر منایا گیا مگر پاکستان میں یہ دن محض رسمی بیانات تک محدود رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دن آزادیِ صحافت کے زوال، احتساب کے فقدان اور بڑھتے ہوئے خوف کے سائے میں جمہوریت کے ایک بنیادی ستون کے لرزنے کی علامت بن چکا ہے۔ جبری خاموشی، سنسرشپ، اور قانون کے بےجا استعمال نے ملک میں آزاد صحافت کو ایسے نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں سچ بولنا محض جرات نہیں بلکہ زندگی کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہو گیا ہے۔عالمی اداروں کی رپورٹس ان تلخ حقائق کی واضح تصدیق کرتی ہیں اور پاکستان میں آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ملک میں آزادیِ اظہار کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرزکے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 180 ممالک میں سے 158ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے  152ویں  درجے سے ایک نمایاں تنزلی ہے۔ یہ زوال محض اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور ص...