Posts

Showing posts from October, 2025

طالبان : دہلی کی پراکسی، خطے کا امن خطرے میں!

Image
  کالم : عتیق چوہدری  افغانستان اور پاکستان جغرافیائی قربت اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے باوجود ہمیشہ سے ہی ایک پیچیدہ اور استعمالی (Transactional) تعلقات میں الجھے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہو ئی شر انگیزیاں ، سرحدی جھڑپوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہیں۔افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے باقاعدہ تسلیم نہ کیے جانے اور عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے افغان حکومت معاشی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تنہائی افغانستان کی قیادت کو اندرونی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مزید مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسی تنہائی اور معاشی مجبوری کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرم قوتوں کو پناہ یا سرپرستی ملنا پاکستان کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ڈیورنڈ لائن کا تنازع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بنیادی اور دیرینہ رکاوٹ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹھوس مؤق...

بلدیاتی انتخابات: غیر جماعتی کیوں؟

Image
  کالم : عتیق چوہدری        مقامی حکومتوں کا نظام کسی بھی فعال جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے؛ یہ وہ نرسری ہے جہاں سے نچلی سطح کی قیادت پروان چڑھتی ہے اور ملکی سیاسی نظام کا حصہ بنتی ہے۔ بدقسمتی سےپاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مسلسل التوا، سیاسی مفادات اور قانونی پیچیدگیوں کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ حالیہ پیش رفت، یعنی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت بلدیاتی انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ، مقامی جمہوریت کی روح اور مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ آخر یہ فیصلہ کیوں؟اس فیصلے کی سب سے بنیادی وجہ سیاسی جماعتوں کی وہ خودغرضانہ سوچ ہے جو مجموعی قومی مفاد پر اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں یونین کونسل (UC) کی سطح تک ایک مضبوط، فعال اور جمہوری تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر ان کے پاس ملک گیر سطح پر قیادت کو پروان چڑھانے کا کوئی واضح میکانزم ہوتا، تو وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات سے منہ نہ موڑتیں۔سیاسی جماعتوں کے اندر "انٹرا پارٹی الیکشن...

شدت پسندی کا متبادل بیانیہ ضروری

Image
عتیق چوہدری پاکستانی معاشرہ آج ایک گہرے تہذیبی، فکری اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسندی   اوردہشت گردی  کے ساتھ ساتھ عدم برداشت، فرقہ وارانہ تعصب اور سماجی ہم آہنگی کا فقدان ایک قومی چیلنج بن چکا ہے۔ ایک صحت مند سماج کی بنیادی شرط "We need to agree to disagree" کا اصول ہےلیکن ہمارا معاشرہ مذہبی، لسانی اور معاشی تعصبات میں بری طرح لتھڑا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں جون ایلیا کا شعر "آؤ اختلاف رائے پر اتفاق کرلیں" ایک اجتماعی خواہش بن چکا ہے۔گزشتہ ہفتے منہاج یونیورسٹی میں بین المذاہب ہم آہنگی پر ایک نہایت اہم اور معنویت سے بھرپور کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جس کا مرکزی موضوع شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ پر  مبنی  تھا۔یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ تعلیمی ادارے اس نوعیت کی علمی و فکری سرگرمیوں کا اہتمام کر رہے ہیں، کیونکہ شدت پسندی محض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں فکری، نظریاتی اور تعلیمی  نظام میں پیوست ہیں۔ جب تک اس رجحان کے مقابلے میں ایک  ٹھوس، متبادل اور مثبت  بیانیہ  تشکیل نہیں دیا جاتا تب تک معاشرے میں "جیو اور جینے دو" جیسی ان...

CRISIS IN THE FIELDS: Wheat Policy Paralysis Pushes Pakistan Toward Food Catastrophe

Image
Atiq Chaudhary    Pakistan’s agriculture, often romanticized as the “backbone” of our economy, is not merely ailing—it is facing a systemic collapse. This crisis, centered on the volatility of the wheat crop, is a damning indictment of a nation that boasts fertile lands and one of the world’s largest irrigation networks yet struggles to feed itself. A sector contributing 24% to the GDP and employing over 40% of the labor force is being strangled by a complex web of climatic disaster, technological apathy, and crippling policy incoherence. The farmer’s lament is no longer about low wheat prices; it is a desperate cry against a system that forces him to sail between the punitive demands of international lenders and the confusing reversals of his own government. The government's wheat policy is mired in utter confusion, a state of paralysis that undermines any path to recovery, as it is caught between the global financial imperative to liberalize markets and the political com...

ڈیجیٹل بھوک، جھوٹی تسکین

Image
 کالم: عتیق چوہدری قومیں جب اخلاقی پستی کا شکار ہوتی ہیں تو ان کی سب سے پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ حقیقت سے منہ موڑ کر دکھاوے کی دنیا میں پناہ لینے لگتی ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل ایک ایسے نفسیاتی بھنور میں پھنسی ہوئی ہے جسے ہم "سوشل میڈیا کا دکھاوا" کہتے ہیں۔ یہ محض تصویروں اور ویڈیوز کا کھیل نہیں بلکہ جمہوری طور پر تقسیم کیے گئے اضطراب (Democratically Distributed Anxiety) کا ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد موازنہ، حسد اور ایک جعلی خودی کی تشکیل پر رکھی گئی ہے۔امریکی ماہرِ نفسیات لیون فیسٹنگر (Leon Festinger) نے 1954ء میں جو نظریہ پیش کیا تھا وہ آج کے سوشل میڈیا دور کی پیش گوئی لگتا ہے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور حیثیت کا اندازہ ہمیشہ دوسروں سے موازنہ کر کے لگاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس سماجی موازنے (Social Comparison) کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔لوگ سوشل میڈیا پر ہر وقت اپنا موازنہ  ایسے افراد سے کرتے ہیں جو ان سے بظاہر زیادہ کامیاب، امیر، پرکشش یا خوش دکھائی دیتے ہیں۔ فیسٹنگر اسے "اوپری سماجی موازنہ" (Upward Social Comparison) کہتے ہیں۔ ...

Beyond the Scorecard: Rethinking Education

Image
My latest  OP-ED analysis Published in Today Newspaper!  "Beyond the Scorecard: Rethinking Education" By: Atiq Chaudhary  The future of any nation is not charted by mere exam scores or formal degrees, but by the bedrock of ideas, creative capacity, and practical expertise. The world's developed education systems offer us a clear lesson: value the student, not the statistic. For global leaders like Finland, which shields children from major standardized exams until age 16, the priority is personal growth, play, and highly trained teachers. Japan instills discipline and ethics, while Singapore’s "Teach Less, Learn More" policy focuses on practical application and problem-solving. Similarly, Canada champions flexibility and equity to meet individual needs. These models prove that a child's true worth resides not in their capacity for rote memorization, but in their ability to think creatively and apply their skills in the real world. In stark, painful con...

آبادی کا بم: پاکستان کے محدود وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ

Image
روزنامہ پاکستان میں آج کا کالم  https://dailypakistan.com.pk/E-Paper/lahore/2025-10-24/page-3 پاکستان اس وقت آبادی میں بے ہنگم اضافے اور محدود وسائل کے ایک ایسے خطرناک تضاد کا شکار ہے جو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ 2023 ء کی ڈیجیٹل مردم شماری رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے اسے آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بنا دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر سالانہ 2.55  فیصدکی شرح اضافہ ہے، جو 2050ء تک آبادی کو 38 کروڑ سے زائد تک پہنچا سکتی ہے اگر موجودہ رجحان برقرار رہا۔ یہ تیز رفتار اضافہ، جس کی بنیادی وجہ فی عورت 3.6 بچے کی بلند شرح   پیدائش ہے، ملکی وسائل پر زبردست دباؤ ڈال رہا ہے اور غربت کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ پائیدار ترقی کے لئے کوئی لانگ ٹرم منصوبہ نہیں بنایا گیا جس میں وسائل و آبادی کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی گئی ہو ۔ مختلف ادوار میں مختلف منصوبہ بنتے رہے ہیں مگر ڈیٹا کو بنیاد بنا کر 50 سالہ منصوبہ نہیں بنایا گیا جس میں یہ سو چاگیا ہو کہ ہم...

A New Chapter or Tactical Pause? Deciphering the Pakistan–US Equation

Image
  By Atiq Chaudhary The complex equation defining the Pakistan–United States relationship cannot be reduced to the recent, widely publicized meeting between Pakistan’s leadership and President Donald Trump. While the personal invitation extended by Trump to Prime Minister Shehbaz Sharif—and the Prime Minister's subsequent re-nomination of Trump for the Nobel Peace Prize—has dominated headlines, it only signals the surface of a far more critical moment. Global attention is currently focused on Islamabad, partly due to its role in the Gaza peace process, making this a pivotal time for Pak-U.S. relations amid new geopolitical power dynamics. Foreign policy analysts agree: Pakistan is now attempting a high-stakes diplomatic tightrope walk, balancing its core interests between the U.S., China, Saudi Arabia, and Turkey. The engagement, which Islamabad presents as a legitimizing endorsement, is much more than a diplomatic photo-op; it is a critical juncture demanding strategic precision...

تعلیم کا بھنور: ڈگری کا غلام یا شعور کا رہنما?

Image
  کالم: عتیق چوہدری قوموں کا مستقبل کبھی محض نمبروں یا رسمی ڈگریوں سے طے نہیں ہوتا، بلکہ نظریات، تخلیقی صلاحیت اور عملی مہارت سے ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام ہمارے لیے ایک واضح رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔فن لینڈ کا نظام، جسے دنیا میں بہترین مانا جاتا ہے، 16 سال کی عمر تک بچوں پر کوئی بڑا معیاری امتحان مسلط نہیں کرتا۔ یہاں زور ذاتی ترقی، کھیل اور اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ پر ہوتا ہے۔ جاپان اپنے طلباء کو نظم و ضبط اور اخلاقیات کی تربیت دیتا ہے، جبکہ سنگاپور اپنی "Teach Less, Learn More" پالیسی کے تحت نصاب میں عملی اطلاق اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem-Solving) پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اسی طرح کینیڈا اپنے نظام میں لچک اور مساوات کو فروغ دیتا ہے تاکہ ہر بچے کو اس کی انفرادی ضرورت کے مطابق وسائل میسر ہوں۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ بچے کی اصل قدر اس کے رٹے ہوئے مواد سے نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی سوچ اور عملی صلاحیت سے ہے۔ ان عالمی معیاروں کے برعکس، ہمارا تعلیمی نظام ایک قومی المیہ بن چکا ہے جو ہمارے بچوں کو شعور کے رہنما کے بجائے ڈگری کا غلام بنا رہا ہے۔ حافظ آبا...

لاہور کی بہاروں پر سموگ کا حملہ

Image
  کالم: عتیق چوہدری  21اکتوبر2025  تاریخ کے اوراق میں "بہاروں کا شہر" کہلانے والا لاہور جسے باغوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا ۔آج سموگ  جیسے  زہریلے دھویں میں گھرا ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی مسلسل انتباہی رپورٹس کے باوجود، لاہور فضائی آلودگی کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست ہے، سموگ کی صورتحال پنجاب کے کئے بڑے شہروں کو متاثر کررہی ہے۔ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق لاہور کا ائیرکوالٹی انڈیکس 332 پر پہنچ گیا اور  فیصل آباد میں ائیرکوالٹی انڈیکس 325 ہے۔اس کے علاوہ شیخوپورہ 311، ڈی جی خان 239، گوجرانوالہ 233 اور ملتان کا اے کیو آئی 224 ہے۔پیر کی صبح علی الصبح لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس انتہائی خراب ہونے سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوا۔ یہ صورتحال نئی دہلی (AQI 220) اور بیجنگ (AQI 150) سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی انتباہ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو اپنی صحت سے ادا کرنی پڑے گی۔عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹس مزید چونکا دی...

Book Review The Mongol Empire

Image
  کتاب چنگیز خان: منگول سلطنت،فتوحات ،شکست  حکمت عملی ،زندگی اور موت کےوہ باب پڑھےجو رہتے تھے ،سوچااس کتاب کے منفرد پہلو آپ دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کرلو ۔جان مین کی کتاب ایک جاندار بیانیہ جو روایتی تصورات کو چیلنج کرتا ہے،جان مین    کی غیر معمولی تصنیف، محض ایک تاریخی سوانح عمری نہیں بلکہ سیاسیات، حکمت عملی، اور انسانی ارتقاء پر مشتمل ایک گہرا تجزیہ ہے۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اسے ایک بہت جاندار اور لازمی مطالعہ پایا، جس نے منگول سلطنت کے بانی کے بارے میں میرے تصور کو یکسر بدل دیا۔ یہ کتاب ان قارئین کے لیے ایک خزانہ ہے جو تاریخ کو محض واقعات کے ایک مجموعہ کے بجائے ایک زندہ سبق کے طور پر دیکھتے ہیں۔جان مین، جو کہ ایک مؤرخ اور تجربہ کار سفرنامہ نگار ہیں، اپنے قابلِ رسائی اور دلکش اندازِ تحریر کے لیے قابلِ تعریف ہیں۔ وہ اپنی تاریخی تحقیق کو منگولیا کے اپنے ذاتی سفر کے تجربات کے ساتھ اس طرح سمو دیتے ہیں کہ قاری تاریخ کے ساتھ ایک ٹھوس اور ذاتی تعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔ روایتی طور پر چنگیز خان کو ایک ، خونخوار وحشی ،ظالم جنگجو اور جابرحکمران کے طور پر پیش کیا جاتا...

قرض کا شکنجہ، پیداواری معیشت اور برآمدی چیلنج

Image
  کالم : عتیق چوہدری    پاکستان کی معیشت آج جس کثیر الجہتی بحران کی زد میں ہے وہ صرف قرضوں اور سیاسی عدم استحکام کا شاخسانہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ معاشی اعداد و شمار چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ ملک کو عارضی مرہم پٹی کی بجائے دیر پااسٹرکچرل  ریفارمزکی ضرورت ہے۔ برآمدی گراوٹ، قرضوں کے تاریخی بوجھ اور کمزور ترقی کی شرح کے سائے میں ہیں ، اب وقت  کا تقاضا ہے کہ پالیسی کی سمت کو ریمیٹنسز اور قرضوں سے ہٹا کر صنعتی اور زرعی پیداوار پر مرکوز کیا جائے۔رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 9.4 ارب ڈالر کی تشویشناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ جب برآمدات کا حجم خطرناک رفتار سے کم ہو رہا ہے تو  یہ بھاری خسارہ ملکی معاشی استحکام پر سوالیہ نشان ہے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی میں 30 صنعتی شعبوں کی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔حکومتی دستاویزات کے مطابق دستکاری مصنوعات کی برآمدات میں 94 فیصد، جیولری میں 98 فیصد، غذائی اجناس میں 31 فیصد اور سوتی کپڑے میں 14 فیصد کی کمی ہوئی۔ برآمدات میں یہ وسیع پیما...