طالبان : دہلی کی پراکسی، خطے کا امن خطرے میں!
کالم : عتیق چوہدری افغانستان اور پاکستان جغرافیائی قربت اور گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے باوجود ہمیشہ سے ہی ایک پیچیدہ اور استعمالی (Transactional) تعلقات میں الجھے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہو ئی شر انگیزیاں ، سرحدی جھڑپوں اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کے پس منظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہیں۔افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کی بین الاقوامی تنہائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے باقاعدہ تسلیم نہ کیے جانے اور عالمی امداد میں کمی کی وجہ سے افغان حکومت معاشی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تنہائی افغانستان کی قیادت کو اندرونی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں مزید مشکل صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسی تنہائی اور معاشی مجبوری کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرم قوتوں کو پناہ یا سرپرستی ملنا پاکستان کے لیے ایک سنگین قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ڈیورنڈ لائن کا تنازع پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بنیادی اور دیرینہ رکاوٹ رہا ہے۔ پاکستان کے ٹھوس مؤق...